صدر فرانس ایمانوئل میکرون نے پیرس میں منعقدہ وائن میلے کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت میں سابق وزیر ثقافت جیک لینگ کے استعفیٰ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ جیک لینگ نے عرب دنیا کے ادارے کے سربراہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے جبکہ ان کا نام اور ان کی بیٹی کا نام جیفری ایپسٹن کے وسیع کیس میں سامنے آیا ہے۔
صدر میکرون کا واضح موقف
صدر میکرون نے کوارڈین پروگرام کے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں واضح کیا کہ "ہم نے ان کے فیصلے کو نوٹ کر لیا ہے اور اس پر مزید کوئی تبصرہ نہیں۔” انہوں نے تسلیم کیا کہ ایپسٹن معاملے میں کچھ فرانسیسی شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں اور انہوں نے کہا کہ "عدالت اپنا کام کرے گی۔”
امریکی عدالتی نظام پر زور
صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ایپسٹن کا معاملہ بنیادی طور پر ایک امریکی مسئلہ ہے جس میں 30 لاکھ نئے صفحات سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "وہاں کی عدالت کو اپنا کام کرنا چاہیے اور بس۔” میکرون نے فرانسیسی عدالت کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے امریکی عدالتی عمل کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
تنازعے کا پس منظر
جیک لینگ، جو کبھی فرانس کے وزیر ثقافت رہ چکے ہیں، نے عرب دنیا کے ادارے کی قیادت کے فرائض انجام دیے ہیں۔ ان کا نام ایپسٹن کے بدنام زمانہ کیس سے منسلک ہونے کے بعد انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ معاملہ حال ہی میں نئے دستاویزی ثبوتوں کی اشاعت کے بعد دوبارہ زیر بحث آیا ہے۔
- جیک لینگ نے عرب دنیا کے ادارے کے سربراہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
- ان کا نام اور ان کی بیٹی کیرولین کا نام ایپسٹن کیس میں سامنے آیا۔
- صدر میکرون نے کہا کہ یہ ان کا اپنا فیصلہ تھا۔
- ایپسٹن معاملے میں کئی فرانسیسی شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں۔
- صدر نے امریکی عدالت سے اس معاملے کو نمٹانے کا مطالبہ کیا۔

