فرانس میں 2025 میں صرف 6 لاکھ 44 ہزار بچوں کی پیدائش کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو ملک میں دوسری عالمی جنگ کے بعد سے ریکارڈ کی گئی کم ترین تعداد ہے۔ پیدائش کی شرح میں اس مسلسل کمی نے ایک قومی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے، جس کے پیش نظر فرانسیسی ادارے اس کے اسباب اور ممکنہ حل پر غور کر رہے ہیں۔
خاندانی پالیسی میں "انقلابی” تبدیلیوں کا منصوبہ
ایک پارلیمانی مشن نے اپنی تازہ رپورٹ میں 30 سے زائد تجاویز پیش کی ہیں، جن کا مقصد ملک کی خاندانی پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، فرانسیسی شہریوں میں بچوں کی خواہش تو موجود ہے، لیکن معاشی دباؤ، پیشہ ورانہ مصروفیات اور سماجی رکاوٹوں کے باعث یہ خواہش پوری نہیں ہو پا رہی۔
ہر بچے کے لیے 250 یورو ماہانہ عالمگیر الاؤنس
رپورٹ کی سب سے اہم اور متنازعہ تجویز "واحد خاندانی ادائیگی” کے نام سے ایک نئی اسکیم ہے۔ اس کے تحت ہر بچے کے لیے 250 یورو ماہانہ الاؤنس دیا جائے گا، جو وسائل کی شرط کے بغیر پہلے بچے سے لے کر اس کی عمر 20 سال ہونے تک جاری رہے گی۔ یہ اسکیم موجودہ دس مختلف امدادی اسکیموں کو یکجا کر دے گی۔
دیگر کلیدی تجاویز
- تنخواہ کے متناسب 12 ماہ کی تنخواہ دار والدین کی چھٹی۔
- بچوں کی پیدائش پر کمپنیوں کی جانب سے ٹیکس فری بونس دینے کا نظام۔
- بچے کی پیدائش پر گھر خریدنے کے لیے زیرو انٹرسٹ قرض کی سہولت۔
- دادا دادی کے لیے پوتے پوتیوں کی دیکھ بھال کی چھٹی۔
- والدین اور دادا دادی کے لیے سال میں چار نصف دن اسکولی تقریبات میں شرکت کی چھٹی۔
معاشرے میں بچوں کے لیے جگہ کی بحالی
رپورٹ میں عوامی مقامات، خاص طور پر ریل گاڑیوں میں بچوں کے لیے مخصوص جگہیں مختص کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فرانسیسی ریلوے کمپنی کی جانب سے "بغیر بچوں” کے商务 کلاس کے فیصلے پر وسیع پیمانے پر تنقید کی جا رہی تھی۔
تجاویز پر عملدرآمد کے امکانات
اگرچہ یہ رپورٹ حکومت پر قانوناً پابند نہیں ہے، لیکن رپورٹ مرتب کرنے والے اراکین کے مطابق کچھ تجاویز 2027 تک نافذ العمل ہو سکتی ہیں، جبکہ کچھ اگلے صدارتی انتخابات کے منشور کا حصہ بن سکتی ہیں۔ ماہرین آبادیات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ مسائل پیچیدہ ہیں اور ان کے حل کے لیے مستقل، طویل مدتی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔

