شیڈول سے پہلے اجلاس، سفارتی بحران گہرا
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیٹن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بدھ کے روز واشنگٹن میں ایک غیر متوقع اور ہنگامی ملاقات کی۔ یہ اجلاس اصل شیڈول سے ایک ہفتہ پہلے طلب کیا گیا ہے اور سفارتی حلقوں میں اسے ایران کے بیلسٹک میزائیل پروگرام سے متعلق شدید تناؤ کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیل کا موقف: میزائیل مسئلہ اولین ترجیح
نیٹن یاہو نے واشنگٹن کے سفر سے قبل ایک بیان میں کہا، "میں صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے اصولوں پر ہماری رائے سے آگاہ کروں گا۔” اسرائیلی ذرائع کے مطابق، یروشلم کو خدشہ ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل میں اس کے میزائیل پروگرام کو نظرانداز کر سکتا ہے۔
فرانسیسی اسٹریٹجک تجزیہ کار ڈیوڈ ریگولیٹ-روز نے اس خدشے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا، "اسرائیل کی اصل فوری تشویش نیوکلیئر نہیں بلکہ بیلسٹک مسئلہ ہے، خاص طور پر میزائیل اور ڈرونز کی صلاحیتیں۔”
ایران کی فوجی صلاحیتوں کے اعداد و شمار
- ایران کے پاس 1500 سے 2000 بیلسٹک میزائیلز ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
- ملک میں 60 سے 80 میزائیل لانچرز موجود ہونے کی اطلاعات ہیں۔
- ایران میں ماہانہ 200 میزائیل تیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
ایران کا غیر لچکدار موقف
ایرانی حکام نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی بیلسٹک صلاحیتوں پر بات چیت کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اس معاملے کو دفاعی خودمختاری کا ایشو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کبھی بھی گفتگو کا موضوع نہیں بن سکتا۔
تنہا فوجی کارروائی کی دھمکی
یروشلم پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے میزائیل پروگرام پر بین الاقوامی پابندیاں عائد نہیں کی گئیں تو وہ تنہا فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ فوجی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایسی کوئی کارروائی گزشتہ برسوں میں ہونے والے حملوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع اور تباہ کن ہوگی۔
علاقائی امن کے لیے بڑھتے خطرات
ایران نے نیٹن یاہو اور ٹرمپ کی اس ہنگامی ملاقات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ اسرائیل خطے میں ہمیشہ سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، موجودہ حالات میں فوجی تصادم کے امکانات کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ ایک سفارتی حل کو ترجیح دیتی ہے، لیکن اسرائیلی دباؤ اور ایران کے غیرلچکدار موقف کے درمیان امن کی کوششیں دن بہ دن مشکل ہوتی جا رہی ہیں۔ خطے میں ایک نئے بحران کے ابھرنے کے واضح آثار نظر آ رہے ہیں۔

