فرانسیسی پولیس نے ایک خاتون مجسٹریٹ اور ان کی والدہ کے اغوا اور تشدد کے سنگین واقعے میں ملوث پانچ نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتاریاں واقعے کے محض تین دن بعد عمل میں آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ملزمان ہسپانیہ فرار ہونے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔
تفصیلی گرفتاریاں اور ملزمان کی شناخت
گرفتاریاں لیون کے علاقے میں ہفتے کی رات سے اتوار اور پھر پیر کی صبح مختلف اوقات میں عمل میں آئیں۔ تمام مشتبہ افراد کی عمریں 18 سے 20 سال کے درمیان ہیں، جن میں چار مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق، تین مردوں نے براہ راست اغوا کے عمل میں حصہ لیا جبکہ چوتھے شخص نے لاجسٹک معاونت کی تھی۔
ایک اہم ذریعے نے بتایا کہ "پولیس نے ملزمان کو بہت جلد شناخت کر لیا تھا اور گرفتاری کے لیے مناسب موقع کا انتظار کیا۔ یہ افراد ہسپانیہ فرار ہونے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔”
16 لاکھ یورو کا کرپٹو کرنسی میں تاوان
لیون کے پراسیکیوٹر کے مطابق، اغوا کاروں نے مجسٹریٹ کے شوہر سے 16 لاکھ یورو کا کرپٹو کرنسی میں تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کے شوہر کرپٹو کرنسی کے شعبے میں ایک اسٹارٹ اپ کمپنی کے پارٹنر ہیں۔ پراسیکیوٹر نے واضح کیا کہ "کسی بھی قسم کی رقم ادا نہیں کی گئی۔”
واقعے کا پس منظر اور فرار
یہ واقعہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب بورگ-لیس-ویلینس میں پیش آیا، جہاں دونوں خواتین کو اغوا کر کے ایک گیراج میں قید کر دیا گیا۔ دونوں خواتین اپنے قید خانے سے جمعہ کی صبح اپنے اغوا کنندگان کی غیر موجودگی میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں۔ اس واقعے نے فرانس کے عدالتی حلقوں میں شدید ہلچل پیدا کر دی تھی۔
بڑھتا ہوا رجحان اور جاری تفتیش
یہ مقدمہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے جہاں مجرمانہ گروہ تاوان کے لیے کرپٹو کرنسی کا استعمال کر رہے ہیں۔ گرفتاریاں بریگیڈ ڈی ریسرچ اینڈ انٹروینشن (BRI)، بریگیڈ ڈی ریپریشن ڈو بینڈیٹسم (BRB) اور لیون کی پولیس جوڈیشیئر کے باہمی آپریشن کا نتیجہ ہیں۔ لیون کے پراسیکیوٹر نے تصدیق کی ہے کہ مقدمے کی تفتیش لیون کی JIRS کی نگرانی میں جاری ہے۔

