واشنگٹن میں موسمی سردی کے ساتھ ساتھ وائٹ ہاؤس کے سیاسی حالات بھی گرم ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے سابق صدر بارک اوباما اور سابق خاتون اول مشیل اوباما کو بندروں سے مشابہت دینے والی ایک نسل پرستانہ ویڈیو شیئر کیے جانے کے بعد انتظامیہ شدید تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔
جمہوری اور جمہوریہ دونوں حلقوں سے شدید ردعمل
ویڈیو کے شیئر ہونے کے فوراً بعد نہ صرف ڈیموکریٹس بلکہ ٹرمپ کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے ارکان نے بھی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ افریقی نژاد امریکی ریپبلکن سینیٹر ٹم سکاٹ نے کہا، "میں دعا کرتا ہوں کہ یہ جعلی ہو، کیونکہ یہ وائٹ ہاؤس کی تاریخ میں اب تک کی سب سے زیادہ نسل پرستانہ حرکت ہے۔” ویڈیو کو کئی گھنٹوں بعد ڈیلیٹ کر دیا گیا، لیکن سیاسی نقصان ہو چکا تھا۔
تین ہفتوں میں تیسری بڑی پسپائی
یہ واقعہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے گزشتہ تین ہفتوں میں تیسری نمایاں پسپائی قرار دی جا رہی ہے:
- گرین لینڈ خریدنے کے منصوبے کو ترک کرنا اور صرف فوجی تعاون تک محدود کرنا۔
- مینیسوٹا سے 700 امیگریشن اہلکاروں کی واپسی کا اعلان اور باڈی کیمرے لگانے پر رضامندی۔
- اب نسل پرستانہ ویڈیو کے معاملے پر تنقید کے بعد ویڈیو ہٹانا۔
میڈیا اور بااثر شخصیات کا دباؤ
میڈیا میگناٹ روپرٹ مرڈوک کے نیو یارک پوسٹ نے اپنے اداریے میں صدر پر زور دیا کہ وہ صورتحال پر قابو پائیں۔ اداریے میں کہا گیا، "غیر فیصلہ کن ووٹرز، ہسپانوی اور آزاد ووٹر امریکی شہریوں کو امیگریشن اہلکاروں کے ہاتھوں مرتے دیکھ کر خوفزدہ ہیں۔”
نومبر کے انتخابات کے لیے بڑا خطرہ
تمام سروے ادارے پیش گوئی کر رہے ہیں کہ نومبر کے مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکن پارٹی ہاؤس آف ریپریزنٹیٹو میں اپنی اکثریت کھو سکتی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ٹیکساس کے ضمنی انتخاب میں 14 پوائنٹس کی ہار نے پارٹی میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا خود نومبر کے انتخابی بیلٹ پیپر پر موجود نہ ہونا پارٹی کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، کیونکہ ماضی میں وہ سروے کے مقابلے میں بہتر ووٹنگ نتائج دکھاتے رہے ہیں۔ معیشت، روزگار اور افراط زر کے مسائل بھی انتخابی مہم کو مشکل بنا رہے ہیں۔

