اسلام آباد: تارلے علاقے میں واقع امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ پر جمعہ کے روز ہونے والے خودکش دھماکے کے مرکزی ملزم اور اس کے معاونین کی گرفتاری کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھارت پر دہشت گرد گروہوں کو فنڈنگ اور ہدف فراہم کرنے کا سخت الزام عائد کیا ہے۔ حملے میں 33 افراد شہید ہوئے تھے۔
بین الاقوامی برادری کی سخت مذمت
چین نے اس مہلک دھماکے پر شدید صدمے کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کی ہر شکل کی مخالفت کی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ چین پاکستانی حکومت کی قومی سلامتی اور عوام کی حفاظت کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔
ایک علیحدہ رابطے میں ترکی کے وزیر خارجہ ہکان فیدان نے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر بات کر کے ترکی کی قیادت اور عوام کی طرف سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عزم کی تجدید کی۔
تفتیش سے حیرت انگیز انکشافات
تفتیشی ذرائع کے مطابق حملہ آور نے تقریباً چار کلوگرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا تھا جس میں بڑی تعداد میں بال بیئرنگز شامل تھیں۔ حملے کی منصوبہ بندی انتہائی منظم تھی:
- حملہ آور نے 2 فروری کو مسجد کی پہلے سے جاسوسی کی تھی۔
- وہ مئی میں افغانستان گیا اور جون میں واپس آیا۔
- واپسی پر اس نے باجوڑ میں نیا موبائل سیم کارڈ ایکٹیویٹ کیا۔
- حملے سے پہلے وہ قریب کے ایک ہوٹل میں بیٹھا اور پھر کھنہ روڈ سے مسجد تک پیدل گیا۔
نادرا کے ریکارڈ کے مطابق حملہ آور یاسر نامی 32 سالہ پشاور کا رہائشی تھا۔
وزیر داخلہ کا بھارت پر براہ راست الزام
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تصدیق کی کہ داعش سے تعلق رکھنے والا مرکزی ملزم اور حملہ آور کے معاونین تحویل میں ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا:
"میں آپ کو دوبارہ واضح طور پر بتا رہا ہوں کہ ان (دہشت گرد گروہوں) کی پوری فنڈنگ بھارت فراہم کر رہا ہے۔ انہیں بھارت کی طرف سے تمام ہدف فراہم کیے جا رہے ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ کے پی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے پشاور اور نوشہرہ میں چھاپوں کے دوران تمام ملوث افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جس کے دوران ایک پولیس اہلکار شہید ہوا۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے بعد سکیورٹی اداروں کی کارروائیاں تیز کی گئی ہیں۔

