شیاومی نے اسمارٹ فون فوٹوگرافی میں انقلاب برپا کرنے والے اپنے مقناطیسی ماڈیولر آپٹیکل سسٹم کی سیریل پروڈکشن کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ نظام، جس کا پراٹوٹائپ MWC 2025 میں پیش کیا گیا تھا، رواں سال مارکیٹ میں دستیاب ہو سکتا ہے۔
بڑے سینسر اور لینز کا طاقتور امتزاج
یہ نظام ایک 100 میگاپکسل لائٹ فیوژن ایکس سینسر استعمال کرتا ہے جو مائیکرو فور تھرڈز (M4/3) فارمیٹ پر مبنی ہے۔ یہ سینسر موجودہ شیاومی 15 الٹرا کے 1 انچ سینسر سے کہیں بڑا ہے۔ 35 ملی میٹر f/1.4 فکسڈ لینز کے ساتھ مل کر یہ نظام ہائبرڈ کیمرے جیسی اعلیٰ معیار کی تصاویر فراہم کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔
لیزر لنک سے تیز ترین ڈیٹا ٹرانسمیشن
سسٹم اور اسمارٹ فون کے درمیان ڈیٹا ٹرانسمیشن کے لیے شیاومی نے ’لیزر لنک‘ نامی پراپرٹری ٹیکنالوجی تیار کی ہے۔ یہ انفراریڈ لیزر کے ذریعے 10 Gbps کی حیرت انگیز رفتار سے RAW ڈیٹا منتقل کرتی ہے، جس سے تصویر کے ویو فائنڈر میں کوئی لیٹنسی نہیں رہتی اور رئیل ٹائم پریمیوم فوٹوگرافی ممکن ہوتی ہے۔
روزمرہ استعمال اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا توازن
اس نظام کا بنیادی مقصد روزمرہ استعمال کے لیے اسمارٹ فون کو پتلا اور ہلکا رکھنا ہے۔ صرف پیشہ ورانہ فوٹوگرافی سیشنز کے دوران لینس کو مقناطیسی طور پر منسلک کیا جا سکتا ہے۔ اس ایکسسری کا وزن تقریباً 100 گرام ہے اور اس میں فزیکل فوکسنگ رنگ بھی موجود ہے، جو صارفین کو بہتر کنٹرول فراہم کرتا ہے۔
ماضی کے تجربات اور نئے چیلنجز
شیاومی سے پہلے سونی اور موٹورولا جیسی کمپنیوں نے بھی ایسے ہی نظام متعارف کرانے کی کوشش کی تھی، جو کئی مسائل کا شکار رہے۔ شیاومی کا یہ نظام ان خامیوں کو دور کرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ سامنے آ رہا ہے۔
مکس سیریز کی واپسی کے امکانات
رپورٹس کے مطابق شیاومی اس نظام کو متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ اپنی پریمیم مکس سیریز کو بھی دوبارہ زندہ کر سکتی ہے۔ مستقبل میں آنے والا شیاومی مکس 5 اس جدید آپٹیکل سسٹم کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے۔
صنعت کے لیے نیا باب
اگر شیاومی کا یہ نظام کامیاب رہا تو اسمارٹ فون فوٹوگرافی میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ صارفین کو ایک پتلے اسمارٹ فون کے ساتھ پیشہ ورانہ معیار کی فوٹوگرافی کی سہولت میسر آئے گی، جو موبائل فوٹوگرافی کی دنیا میں ایک تاریخی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔

