امریکہ اور ایران کے مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہونے کا امکان
اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازعے کے پرامن حل کے لیے مذاکرات کا دوسرا دور اس ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔ دونوں ممالک نے سفارتی کوششوں کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
پہلے دور کے بعد نئی سفارتی کوششیں
گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور مذاکرات میں کوئی واضح نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا تھا۔ تاہم، واشنگٹن اور تہران سے ملنے والی تازہ سفارتی علامات سے یہ توقعات مضبوط ہوئی ہیں کہ اسلام آباد ایک بار پھر تجدید مذاکرات کا مقام بن سکتا ہے۔ گزشتہ بدھ کو اعلان کیے گئے فائر بندی کے تین روز بعد ہونے والی ملاقات میں امریکی اور ایرانی حکام نے ایک دہائی سے زائد عرصے میں پہلی بار براہ راست بات چیت کی تھی۔
اعلیٰ سطحی مذاکرات کی تفصیلات
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کے پہلے دور میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود نے گہرے اور بند دروازوں کے پیچھے مذاکرات کیے، جو تقریباً 21 گھنٹے جاری رہے۔ غیر واضح مذاکرات کے بعد کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب امریکی فوجی کارروائی نے ایرانی بحری نقل و حرکت کو نشانہ بنایا، جبکہ تہران نے خطے میں بحری راستوں اور خلیجی انفراسٹرکچر کے خلاف جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔
دونوں فریقوں کے بیانات
ایرانی حکام نے کہا ہے کہ وہ مزید مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور اگر مذاکرات کا دوسرا دور ہوتا ہے تو پاکستان ان کی ترجیحی مقام ہوگا۔ اسی طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران مذاکرات اگلے دو دنوں میں پاکستان میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا، "آپ کو واقعی وہیں رہنا چاہیے، کیونکہ اگلے دو دنوں میں کچھ ہو سکتا ہے، اور ہم وہاں جانے کے لیے زیادہ مائل ہیں۔” انہوں نے پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات میں معاونت کے لیے "بہت اچھا کام” کر رہے ہیں۔
نئی تجاویز اور رابطے
ذرائع کے مطابق، مذاکرات کی بحالی کے لیے وفود بھیجنے کی تجویز واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ شیئر کی گئی ہے۔ اسلام آباد دونوں اطراف کے ساتھ اگلے دور کے وقت پر رابطے میں ہے۔ تہران سے تجدید رابطے کے مثبت جوابات موصول ہوئے ہیں، جہاں ایرانی حکام نے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کھلے پن کا اظہار کیا ہے۔
ایک سینئر پاکستانی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ ایران سے رابطہ قائم کیا گیا ہے، جس نے جاری سفارتی چینلز کے ذریعے آگے بڑھنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کردار اور تنازعے کی ابتدا
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ اگرچہ اسلام آباد میں امریکہ ایران مذاکرات کا پہلا دور غیر واضح رہا، پاکستان دونوں اطراف کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا، جو اس سطح پر ان کی پہلی براہ راست ملاقات تھی۔
ان کے مطابق پاکستان کی کوششوں نے دو ہفتے کی فائر بندی کو برقرار رکھنے میں مدد دی، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان باقی مسائل کو حل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں یہ تنازعہ 28 فروری کو شروع ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ بمباری مہم چلائی۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوئی جب ایران نے ہرمز کے آبنائے میں رکاوٹیں پیدا کیں اور خطے بھر میں اسرائیلی اور امریکی اہداف پر حملے کیے۔ اس جنگ نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو متاثر کیا ہے اور بنیادی طور پر ایران اور لبنان میں ہزاروں شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

