امریکہ ایران مذاکرات کی امیدوں اور سعودی امداد سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی ریکارڈ تیزی
کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کے روز تاریخی تیزی دیکھی گئی جس میں بنچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے ایک ہی دن میں 4,000 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تیزی مشرق وسطیٰ میں تنازعے کے حل کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی امید اور سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کی اضافی مالی معاونت کے اعلان سے پیدا ہونے والے مثبت تاثر کی وجہ سے آئی۔
انڈیکس میں 2.74 فیصد کا تاریخی اضافہ
تفصیلات کے مطابق، کے ایس ای 100 انڈیکس 4,544.19 پوائنٹس یا 2.74 فیصد کی نمایاں چھلانگ لگاتے ہوئے 170,179.03 پوائنٹس پر بند ہوا۔ یہ گذشتہ بندش 165,634.84 پوائنٹس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس یک طرفہ تیزی کے نتیجے میں مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں اربوں روپے کا اضافہ ہوا۔
صدر ٹرمپ کے بیان نے دی ہوا
اس تیزی کی ایک بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بیان بھی تھا۔ صدر ٹرمپ نے اے بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اگلے دو دنوں میں پاکستان میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، "میرے خیال میں آپ اگلے دو حیرت انگیز دن دیکھنے والے ہیں۔” انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ 21 اپریل کو ختم ہونے والی دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع کی ضرورت نہیں ہوگی۔
تجزیہ کاروں نے مثبت عوامل گنوائے
اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے سی ای او احفاز مصطفیٰ نے کہا، "مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے اختتام تک حل ہونے کی توقعات اور تیل کی کم قیمتوں نے سرمایہ کاروں کو نئی اعتماد بخشی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ "سعودی ڈپازٹس اور پاکستان کے مرکزی کردار کی وجہ سے پیدا ہونے والی مثبت فضا نے اس تیزی کو ہوا دی ہے۔”
عارف حبیب کے احسن مہنتی نے اس تیزی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا، "اسٹاکس میں تیزی کی ایک بڑی وجہ امریکہ ایران امن مذاکرات کے دوسرے دور کی امید اور صدر ٹرمپ کا جنگ کے اختتام کے قریب ہونے کا اعلان ہے۔” انہوں نے یہ بھی بتایا کہ "عالمی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی اور سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کی مالی امداد کی توقع نے پی ایس ایکس پر بلش سرگرمی میں اہم کردار ادا کیا۔”
سعودی عرب کی 3 ارب ڈالر کی اضافی معاونت
وزارت خزانہ کے مطابق سعودی عرب پاکستان کو 3 ارب ڈالر کی اضافی مالی معاونت فراہم کرے گا جو ملک کی مالی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ وزارت کے مطابق یہ فنڈز متحدہ عرب امارات کے قرض کی ادائیگی سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کے لیے استعمال ہوں گے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ سعودی عرب 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی رول اوور مدت میں توسیع کے علاوہ یہ اضافی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاونت پاکستان کے بیرونی مالیاتی ضروریات کے لیے نہایت اہم وقت پر آئی ہے جو زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے میں مدد دے گی۔
تیل کی قیمتوں میں کمی اور آئی ایم ایف کے اہداف
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران مذاکرات کی امیدوں نے تیل کی عالمی قیمتوں پر بھی مثبت اثر ڈالا ہے جس سے پاکستان جیسے درآمد کنندہ ممالک کو ریلیف ملنے کی توقعات ہیں۔ تیل کی کم قیمتوں سے پاکستان کے تجارتی خسارے میں کمی اور مہنگائی پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ مالی معاونت پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت جون تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر تک لے جانے کے ہدف کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ مارکیٹ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات مثبت نتائج کی طرف بڑھتے ہیں تو اس سے خطے میں استحکام آئے گا جو پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی سازگار ثابت ہو سکتا ہے۔

