ایران پر حملے کی حکمت عملی پر سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ کا پرل ہاربر کا حوالہ، تنقید
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپانی وزیراعظم شنزو آبے کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی مشترکہ پریس بریفنگ کے دوران پرل ہاربر پر حملے کا متنازعہ حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "حیران کن حملوں کے معاملے میں جاپان سے بہتر کون جان سکتا ہے؟”۔ یہ بیان ایران پر امریکی-اسرائیلی مشترکہ فوجی کارروائی کے تناظر میں سامنے آیا۔
صحافی کے سوال پر تاریخی موازنہ
ایک جاپانی صحافی کے اس سوال پر کہ ایران پر حملے سے پہلے اتحادی ممالک کو کیوں نہیں بتایا گیا، صدر ٹرمپ نے جواب دیا: "ہم نے کسی کو نہیں بتایا کیونکہ ہم حیران کن حملہ کرنا چاہتے تھے۔ پرل ہاربر کے معاملے میں مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا گیا؟”۔ رپورٹس کے مطابق، یہ بیان دیتے ہوئے ٹرمپ کے چہرے پر مسکراہٹ تھی جس پر وائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم میں موجود افراد میں سے کچھ نے قہقہ لگایا۔
تاریخی حساسیت اور ردعمل
پرل ہاربر کا واقعہ 7 دسمبر 1941 کو پیش آیا تھا جب جاپانی فوج نے ہوائی میں امریکی بحری اڈے پر حیران کن حملہ کیا تھا جس میں 2,400 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ یہ واقعہ امریکی تاریخ کا ایک دردناک باب سمجھا جاتا ہے جس کے بعد امریکا نے جاپان کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا۔
میڈیا اور مبصرین کی تنقید
ٹرمپ کے اس بیان کو تاریخی حوالے کے غیر حساس استعمال پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ امریکی میڈیا نے اسے "انتہائی برا ذوق” اور "ناپسندیدہ” قرار دیا۔ جاپانی وزیراعظم شنزو آبے نے اس موقع پر کوئی فوری ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
ایرانی حملے کی دفاعی وضاحت
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران پر حملے کو دفاعی طور پر درست ثابت کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ "ہم نے 50 فیصد یا اس سے زیادہ اہداف تباہ کر دیے ہیں”۔ انہوں نے اس کارروائی کو کامیاب قرار دیتے ہوئے حیران کن حملے کی حکمت عملی کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی۔
سیاسی مضمرات
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بیان نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ انہوں نے انتخابات میں امریکا کو غیر ملکی جنگوں سے دور رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔

