نیٹن یاہو کا دعویٰ: ایران کی یورینیم افزودگی اور بیلسٹک میزائل کی صلاحیت ختم
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیٹن یاہو نے بدھ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاس یورینیم افزودگی اور بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہی۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف مشترکہ جنگی کارروائیوں کو 20 دن مکمل ہو چکے ہیں۔
ٹیلی ویژن پر اہم اعلان
براہ راست ٹیلی ویژن پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیٹن یاہو نے کہا، "20 دن بعد، میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ ایران کے پاس آج یورینیم افزودگی کی صلاحیت نہیں ہے، اور نہ ہی بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی صلاحیت باقی ہے۔” انہوں نے مزید کہا، "ہم ان صلاحیتوں کو تباہ کرتے رہیں گے۔ ہم انہیں مکمل طور پر کچل دیں گے، یہاں تک کہ صرف راکھ باقی رہ جائے۔”
ایرانی حکومت میں ‘دراڑیں’ اور امریکی ہدایت
نیٹن یاہو نے ایرانی حکومت کے اندر اور زمینی حالات میں "دراڑیں” دیکھنے کا بھی دعویٰ کیا، یہ کہتے ہوئے کہ جنگ تخمینے سے زیادہ تیزی سے ختم ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے احتیاط کی ہدایت
نیٹن یاہو نے تسلیم کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں ایران کی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر مزید حملے نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیل نے ایران کے ساؤتھ پارس گیس کمپلیکس پر اکیلا حملہ کیا تھا، اور اب وہ امریکی صدر کی ہدایت پر عمل کر رہے ہیں۔
خلیجی توانائی کے مراکز پر حملوں کے اثرات
ایران کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں خلیجی ممالک کی توانائی کی سہولیات، بشمول قطر کے راس لفان گیس پلانٹ، کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ قطر کے وزیر اعظم نے اس حملے کو عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے سنگین نتائج کا حامل قرار دیا ہے۔
عالمی ردعمل اور معاشی خدشات
یورپی ممالک نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کی حفاظت میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے بعد کئی ممالک نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر جاری کرنا شروع کر دیے ہیں، جبکہ عالمی تجارت میں کمی اور مہنگائی میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ہلاکتوں میں اضافہ اور مہاجرین کے بحران کا خدشہ
لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 1,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ خطے بھر میں شہریوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے، جس پر یورپی رہنماؤں نے 2015-2016 جیسے مہاجرین کے بحران کے دوبارہ ابھرنے کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر تنازعے کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم فریقین کے سخت موقف کے پیش نظر جنگ کے فوری خاتمے کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔

