سی-پان پر پراسرار کالر نے ٹرمپ کی نقل کرتے ہوئے پرانے فرضی نام ’جان بیرن‘ کا استعمال کیا
واشنگٹن — امریکی پارلیمانی نشریاتی نیٹ ورک سی-پان پر جمعہ کے روز ایک غیر معمولی فون کال نے ناظرین اور میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی۔ ایک کالر، جس نے خود کو ’جان بیرن‘ کے طور پر متعارف کرایا، نے سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے پر سخت تنقید کی، جس نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک اہم تجارتی پالیسی کو نقصان پہنچایا ہے۔
آواز اور انداز نے ٹرمپ کی یاد تازہ کردی
کالر کے بولنے کا نیویارک لہجہ، تقریر کا جارحانہ انداز اور موضوع پر گرفت فوری طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی یاد دلاتے تھے۔ ’جان بیرن‘ وہی فرضی نام ہے جسے ٹرمپ ماضی میں، بالخصوص 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں، کبھی کبھار صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپنے بارے میں تیسرے شخص کے طور پر بات کرنے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔
سی-پان کا ردعمل اور وضاحت
کال کے دوران ہی پروگرام کی میزبان نے فون کاٹ دیا اور اگلے کالر کی طرف چلی گئیں۔ واقعے کے بعد سی-پان نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ کال ڈونلڈ ٹرمپ کی نہیں تھی۔ چینل کے ترجمان کے مطابق، کال ورجینیا کے ایک فون نمبر سے آئی تھی اور اسی وقت کی گئی تھی جب سابق صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں گورنرز کے ساتھ ایک میٹنگ میں مصروف تھے۔
سپریم کورٹ کا ٹرمپ کے خلاف اہم فیصلہ
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی سپریم کورٹ نے 6-3 کے فیصلے میں ٹرمپ کو یہ اختیار دینے سے انکار کردیا کہ وہ اقتصادی ہنگامی حالت کے ایک قانون کے تحت درآمدی محصولات عائد کرسکیں۔ اس فیصلے کو ٹرمپ انتظامیہ کی ایک اہم عدالتی شکست قرار دیا جارہا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں ایک پریس بریفنگ کے دوران، سابق صدر ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور اسے "انتہائی ناانصافی” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "یہ فیصلہ ملک کے لیے اچھا نہیں ہے۔”
فرضی ناموں کی پرانی تاریخ
اگرچہ اس کال کی حتمی تصدیق نہیں ہوسکی کہ آیا یہ کوئی عام شائقین تھا یا کوئی اور، لیکن اس مختصر واقعے نے امریکی سیاست میں فرضی ناموں کے استعمال کی پرانی تاریخ کو ایک بار پھر اجاگر کردیا۔ ’جان بیرن‘ کے نام سے سی-پان پر یہ مبہم کال میڈیا کے حلقوں میں ایک دلچسپ اور پراسرار واقعہ کے طور پر ریکارڈ کی جائے گی۔

