ایل مینچو کی ہلاکت کے بعد میکسیکو میں کارٹیل کا خونی انتقام، ملک بھر میں ہنگامہ
میکسیکو کے طاقتور ترین منشیات کارٹیل، جیلسکو نیوا جینریشن (جے این جی) کے سربراہ نیومیسیو اوسیگیرا، المعروف ’ایل مینچو‘ کی ہلاکت کے بعد ملک کے 20 سے زائد ریاستوں میں تشدد کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے۔ 59 سالہ ایل مینچو کو امریکی تعاون سے کیے گئے ایک فوجی آپریشن میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔
تعلیمی اور عدالتی نظام پر وار
کارٹیل کے انتقامی تشدد کے ردعمل میں کم از کم 8 ریاستوں میں اسکولوں میں حاضری معطل کر دی گئی ہے۔ عدالتی نظام نے بھی ججوں کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ صورتحال کے پیش نظر اپنی عدالتیں بند رکھیں۔ صدر کلاؤڈیا شین بام نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ ایک اعلیٰ سیکیورٹی اہلکار کے مطابق، جے این جی کارٹیل کے ملک بھر میں گہرے نیٹ ورکس موجود ہیں جو اس ردعمل کی ذمہ دار ہیں۔
امریکی کردار کی تصدیق
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے میکسیکن حکومت کو انٹیلی جنس سپورٹ فراہم کی تھی جس کے نتیجے میں ایل مینچو کو "ختم” کر دیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے منشیات کے خلاف جنگ کو اپنی ترجیح بنایا ہے اور ماضی میں میکسیکو میں کارٹیل کے خلاف امریکی فورسز بھیجنے کی تجویز بھی پیش کر چکے ہیں۔
گواڈلاجارا میں دہشت، سیاحتی علاقے غیر محفوظ
جیلسکو کی ریاست میں، جہاں کارٹیل کی مضبوط گرفت ہے، مسلح افراد نے گاڑیوں اور جلتی ہوئی ٹرکوں سے سڑکیں بلاک کر دی ہیں۔ گواڈلاجارا کے ایک دکان کے ملازم ماریا میڈینا نے بتایا کہ مسلح افراد نے انہیں دکان سے باہر نکالا اور اغوا کرنے کی کوشش کی۔
امریکہ نے کینکن، گواڈلاجارا اور اوآخاکا سمیت کئی اہم سیاحتی علاقوں میں اپنے شہریوں کو فوری طور پر پناہ لینے کی ہدایت جاری کی ہے۔ شمالی امریکی ایئر لائنز نے میکسیکن شہروں کے لیے درجنوں پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
جے این جی کارٹیل: ایک پرتشدد تاریخ
ایل مینچو نے 2009 میں جے این جی کارٹیل کی بنیاد رکھی تھی، جسے 2015 میں امریکہ نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ یہ کارٹیل کوکین، ہیروئن، میتھمفٹامین اور فینٹینل کی اسمگلنگ کے ساتھ ساتھ بھتہ خوری، تارکین وطن کی اسمگلنگ اور ہتھیاروں کی تجارت میں ملوث ہے۔
ماہرین کے مطابق، کارٹیل نے یورپ، ایشیا، افریقہ اور آسٹریلیا جیسے منڈیوں پر توجہ مرکوز کی ہے جہاں منشیات کی قیمتیں زیادہ ہیں۔ 2006 کے بعد سے میکسیکو میں کارٹیل سے متعلقہ تشدد میں 450,000 سے زائد اموات اور 100,000 سے زیادہ افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ایل مینچو کی ہلاکت کے بعد اس پرتشدد تاریخ کا نیا باب کھل گیا ہے۔

