روسی وزیر توانائی کا اعلان: ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون جاری رکھیں گے
ماسکو: روسی وزیر توانائی سرگئی سیویلیوف نے کہا ہے کہ روس ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون جاری رکھے گا اور تمام تر چیلنجز کے باوجود یہ شراکت داری متاثر نہیں ہوگی۔
تعزیتی دورے کے موقع پر اہم بیان
وزیر نے یہ بات ماسکو میں ایرانی سفارت خانے میں تعزیت کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت میں کہی۔ سرگئی سیویلیوف روس ایران تجارتی و اقتصادی تعاون کی بین الحکومتی کمیٹی کے شریک صدر بھی ہیں۔
بین الحکومتی کمیٹی کا کامیاب اجلاس
انہوں نے کہا کہ 17 فروری کو تہران میں ہونے والی کمیٹی کی حالیہ میٹنگ بہت اچھی رہی۔ سرگئی سیویلیوف نے کہا، "میں نے ایرانی وزیر، اپنے ساتھیوں اور دوستوں سے بات کی ہے۔ ہم نے حاصل ہونے والے معاہدوں پر تبادلہ خیال کیا۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔”
مشترکہ معاہدے پر دستخط اور شیڈول طے
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا، "ہم نے ایران میں کمیٹی کے اجلاس کے دوران بین الحکومتی کمیٹی کے فریم ورک میں ایک مشترکہ معاہدے پر دستخط کیے اور تمام متفقہ شعبوں میں کام کا شیڈول طے کیا۔ ہم تمام تر چیلنجز کے باوجود اس شیڈول پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔”
تعاون کے شعبے جاری رہیں گے
وزیر نے زور دے کر کہا کہ تعاون کے شعبے کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے باوجود جاری رہیں گے۔ ان کے بیان سے دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعلقات کی عکاسی ہوتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں سیاسی اور اقتصادی چیلنجز موجود ہیں۔
نئے منصوبوں پر کام جاری
روس کا ارادہ ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون جاری رکھے، جس میں نئے امید افزا منصوبے بھی شامل ہیں۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ شراکت داری کو مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

