روس نے ایران سے اسلحہ کی درخواست سے انکار کرتے ہوئے ایندھن کی قیمتوں پر عدم اثرات کا اعلان کیا
ماسکو: روسی حکام نے ایران سے اسلحہ کی فراہمی کی کوئی درخواست موصول نہ ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کا روس میں ایندھن کی قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
کریملن کا واضح موقف
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے 5 مارچ کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ موجودہ صورتحal میں ایران کی جانب سے کوئی درخواست موجود نہیں ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا، "روس کا مستقل موقف وسیع پیمانے پر جانا جاتا ہے اور وہ تبدیل نہیں ہوا ہے۔”
ایندھن کی قیمتوں پر تنازعے کے اثرات سے انکار
پیسکوف نے میڈیا سے بات چیت میں یہ بھی واضح کیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری فوجی کارروائیاں اور ان کے بین الاقوامی تیل کے ماحول پر اثرات روس میں ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا باعث نہیں بنیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں تنازعے سے متعلق بین الاقوامی ماحول روسی ایندھن کی قیمتوں میں کسی قسم کی تبدیلی کی وجہ نہیں بن سکتا۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت اور فیڈرل اینٹی ٹرسٹ ایجنسی (ایف اے ایس) قیمتوں کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
حالیہ فوجی تصادم کا پس منظر
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی مہم چلائی تھی۔ اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی دیگر اعلیٰ شخصیات ہلاک ہو گئی تھیں۔
اس کے جواب میں، ایرانی اسلامی انقلابی گارڈز کور نے اسرائیل میں اہداف کو نشانہ بنا کر انتقامی کارروائی کا آغاز کیا ہے، جبکہ بحرین، اردن، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈوں پر بھی حملے ہوئے ہیں۔
تعاون کے مستقبل کے امکانات
اگرچہ فوجی امداد کی درخواستوں سے انکار کیا گیا ہے، لیکن روسی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے امید افزا منصوبے جاری رہیں گے۔ روسی توانائی کے وزیر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تمام چیلنجوں کے باوجود روس-ایران تعاون میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔
علاقائی استحکام پر ممکنہ اثرات
ماہرین کا خیال ہے کہ روس کا یہ واضح موقف خطے میں موجودہ تنازعے میں براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے اور بحیرہ روم میں روسی گیس ٹینکرز پر حملوں جیسے واقعات نے صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے۔
حکومت نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ وہ ایندھن کی رسد کو یقینی بنانے اور قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔
