تہران: ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے جمعرات کے روز ملک کے تیار کردہ جدید ترین بیلسٹک میزائل سسٹم ‘خرمشہر-4’ کی پہلی تصاویر جاری کی ہیں، جس کی ہائپرسونک رفتار اسے خطے کے لیے ایک خطرناک ہتھیار بنا سکتی ہے۔
ہوا سے آٹھ گنا تیز رفتار میزائل
جاری کی گئی تصاویر اور معلومات کے مطابق ‘خرمشہر-4’ میزائل فضا میں آواز کی رفتار سے آٹھ گنا (تقریباً 10,000 کلومیٹر فی گھنٹہ) جبکہ فضا سے باہر آواز کی رفتار سے سولہ گنا زیادہ تیز سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق یہ میزائل اسرائیل کو 12 منٹ سے بھی کم وقت میں نشانہ بنا سکتا ہے۔
‘خیبر’ میزائل کی تکنیکی تفصیلات
ایرانی خبر ایجنسی ارنا کے مطابق ‘خیبر’ میزائل، جو خرمشہر سیریز کا تازہ ترین ورژن ہے، درج ذیل خصوصیات کا حامل ہے:
- 2,000 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت
- 1,500 کلوگرم وزنی وارہیڈ اٹھانے کی طاقت
- مائع ایندھن سے چلنے والا نظام
- جدید گائیڈنس اور نیویگیشن سسٹم
اس میزائل کا نام تاریخی شہر خیبر کے نام پر رکھا گیا ہے جو موجودہ سعودی عرب میں واقع ہے۔ ایرانی وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل محمد رضا اصغرئی نے بہار 2023 میں اس میزائل سسٹم کے اعلان کے دوران بتایا تھا کہ یہ ایک ٹن سے زیادہ وزن والے وارہیڈ اٹھا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ردعمل اور جوہری معاہدے پر اثرات
خرمشہر میزائل سیریز کا پہلا اعلان 2017 میں کیا گیا تھا، جس کے چند دن بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ جاری کیا تھا۔ اس اقدام نے 2015 کے جوہری معاہدے کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیے تھے۔ 2018 میں امریکہ کے یکطرفہ انخلاء کے بعد ایران بتدریج اس معاہدے کی پابندیوں سے آزاد ہوتا گیا۔
فرانس کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے اس وقت ایران کے "انتہائی تشویشناک جوہری اسکیلیشن” پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ "فرانس سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی اس نئی خلاف ورزی کی مذمت کرتا ہے”۔
خطے میں کشیدگی کے پس منظر میں اعلان
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے غزہ میں اسرائیل اور ایران سے وابستہ مسلح تحریک جہاد اسلامی کے درمیان پانچ روزہ جنگ بندی کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، اس موقع پر خیبر میزائل کے ساتھ یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ کے ماڈل کی نمائش بھی کی گئی، جو خطے میں ایران کے دفاعی عزائم کی واضح علامت سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ نئی میزائل ٹیکنالوجی خطے میں اسلحے کی دوڑ کو مزید تیز کر سکتی ہے اور بین الاقوامی سطح پر ایران کے خلاف پابندیوں کے حوالے سے مذاکرات کو متاثر کر سکتی ہے۔

