بھارت نے 114 رافیل جنگی طیاروں کے تاریخی معاہدے کی منظوری دے دی
نئی دہلی: بھارت نے دفاعی شعبے میں ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے فرانس کی کمپنی ڈاسالٹ ایوی ایشن سے 114 رافیل جنگی طیارے خریدنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ معاہدہ فرانس کی فضائیہ کے پورے رافیل بیڑے کے برابر ہے اور ڈاسالٹ کمپنی کی تاریخ کا سب سے بڑا آرڈر بن گیا ہے۔
33 ارب یورو مالیت کا دفاعی معاہدہ
بھارتی وزارت دفاع کی ڈیفنس ایکویزیشن کونسل نے 12 فروری کو اس بڑے معاہدے پر سبز پرچم دکھایا۔ وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 33 ارب یورو مالیت کا ہے اور اس میں کروز میزائل، سمندری نگرانی کے طیارے اور ہائی ایلیٹیوڈ نگرانی کے غبارے بھی شامل ہیں۔ یہ معاہدہ 2015 میں 36 طیاروں اور اپریل 2025 میں 26 بحریہ کے طیاروں کے بعد تیسرا بڑا آرڈر ہے۔
فرانسیسی صدر کے دورے پر حتمی منظوری
ذرائع کے مطابق اس معاہدے کی حتمی منظوری فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے 17 سے 19 فروری تک بھارت کے دورے کے دوران دی جائے گی، جس کا اعلان ممکنہ طور پر 18 فروری کو کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات کے 80 طیاروں کے آرڈر سے بھی بڑا ہے۔
‘میک ان انڈیا’ کے تحت مقامی تیاری
بھارت کی ‘میک ان انڈیا’ پالیسی کے تحت ان طیاروں کی تیاری کا بیشتر حصہ بھارت میں ہی ہوگا۔ ناگپور میں واقع پلانٹ، جو ڈاسالٹ اور ریلائنس کی مشترکہ ملکیت ہے، میں ان طیاروں کی اسمبلی کی جائے گی۔ گزشتہ سال ستمبر میں ڈاسالٹ نے اس مشترکہ منصوبے میں 51 فیصد حصہ حاصل کرکے اس پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔
دفاعی ضروریات اور اسکواڈرن کا ہدف
ذرائع کے مطابق بھارت کی یہ بڑی خریداری دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہے۔ بھارتی فضائیہ کے پرانے مگ-21، مگ-29، جیگوار اور میراج 2000 طیاروں کی جگہ نئے طیارے لینے کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ فی الحال بھارت کے پاس 29 اسکواڈرن ہیں جبکہ اس کا ہدف 42 اسکواڈرن تک پہنچنا ہے۔
رافیل کی عالمی کامیابی میں اضافہ
اس نئے آرڈر کے بعد رافیل طیاروں کی کل فروخت 650 کے قریب پہنچ جائے گی، جو میراج 2000 کی 600 سے زائد فروخت سے بھی زیادہ ہے۔ ڈاسالٹ ایوی ایشن کے لیے یہ ایک اہم تجارتی کامیابی ہے جو کمپنی کی پیداواری صلاحیتوں کو بھی بڑھائے گی۔

