پاکستان کے فوجی آپریشن میں 300 سے زائد افغان طالبان ہلاک، 80 سے زیادہ ٹھکانے تباہ
اسلام آباد: پاکستان کی مسلح افواج نے افغان طالبان کے خلاف ایک بڑے آپریشن میں 300 سے زائد دہشت گردوں کے ہلاک اور 400 سے زائد کو زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ فوج کے ترجمان کے مطابق، اس کارروائی کا مقصد دہشت گرد عناصر کے نیٹ ورک اور ان کے ٹھکانوں کا خاتمہ تھا۔
آپریشن غضب للحق کے اہم نتائج
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، ’آپریشن غضب للحق‘ کے دوران 80 سے زائد طالبان ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا جبکہ 20 سے زائد پر قبضہ کر لیا گیا۔ اطلاعات ہیں کہ اس کارروائی میں افغانستان میں واقع طالبان کے مرکزی ہیڈ کوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
سرحدی سلامتی کا حصول اولین ترجیح
پاک فوج کے مطابق یہ آپریشن سرحدی تحفظ کو مضبوط بنانے اور علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی ملک کے اندر دہشت گردی کے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف تھی۔
پاکستانی افواج کو کوئی جانی نقصان نہیں
سیکیورٹی حلقوں نے تصدیق کی ہے کہ اس وسیع کارروائی کے دوران کسی پاکستانی شہری یا فوجی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔ آپریشن کی تفصیلات اور اس کے جغرافیائی دائرہ کار کے بارے میں مزید معلومات فی الحال جاری نہیں کی گئی ہیں۔
یہ فوجی کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تناؤ حالیہ مہینوں میں بڑھا ہے۔

