امریکہ اور اسرائیل کے مربوط حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں بحران، 40 ہلاکتیں
مشرق وسطیٰ میں ایک نئے بڑے عسکری تنازعے کا آغاز ہو گیا ہے جس میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مربوط فضائی حملے کیے ہیں۔ ایران نے خلیجی عرب ریاستوں پر میزائل داغ کر جوابی کارروائی کی ہے جس میں متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔
اسکول پر حملے میں 40 ہلاکتیں
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، اسرائیل کے جنوبی ایرانی قصبے میناب میں ایک پرائمری گرلز اسکول پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 تک پہنچ گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات میں 24 طالبات کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی۔
روس کا خطرناک مہم جوئی کا الزام
روس نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کو "خطرناک مہم جوئی” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ خطے میں "انسانی، اقتصادی اور ممکنہ طور پر تابکاری کی تباہی” کا سبب بن سکتے ہیں۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق، "حملہ آوروں کے ارادے واضح ہیں: ایک ناپسندیدہ ریاست کے آئینی نظام کو تباہ کرنا۔”
ہوائی نقل و حرکت پر وسیع پیمانے پر اثرات
تنازعے کے بعد متعدد عالمی ہوائی کمپنیوں نے مشرق وسطیٰ کی پروازیں منسوخ یا معطل کر دی ہیں۔
پاکستانی اور علاقائی پروازیں متاثر
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) نے متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور کویت کی پروازیں معطل کر دی ہیں۔ تاہم سعودی عرب کی پروازیں متبادل راستوں سے جاری رہیں گی۔
دیگر ایئر لائنز کے اقدامات
ترکش ایئر لائنز نے قطر، کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات، عمان، لبنان، شام، عراق، ایران اور اردن کی پروازیں منسوخ کر دیں۔ لوفتھانزا اور برٹش ائیرویز نے تل ابیب اور بیروت کی پروازیں معطل کر دیں۔ ایئر انڈیا نے مشرق وسطیٰ کی تمام منزلوں کی پروازیں روک دی ہیں جبکہ قطر ایئرویز نے دوحہ کی پروازیں بند کر دیں۔
ایرانی قیادت کی غیر موجودگی اور اسرائیلی اقدامات
ایرانی حکام کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای تہران میں نہیں ہیں۔ اسرائیل نے اپنا فضائی حدود شہری پروازوں کے لیے بند کر دیا ہے اور تعلیمی سرگرمیوں اور اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔
پاکستان کی مذمت اور عالمی ردعمل
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسد دور نے ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک رابطے میں "بلا وجہ حملوں” کی مذمت کی ہے۔ دوسری جانب برطانیہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے شہریوں کو پناہ گاہوں میں رہنے اور سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
خطے میں کشیدگی انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے اور عالمی برادری فوری سفارتی حل کی اپیل کر رہی ہے۔

