یورپی یونین کی روس پر نئی پابندیاں ہنگری کے ویٹو کی نذر
یورپی یونین روس پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے میں ناکام رہا ہے جس کی وجہ ہنگری کی جانب سے اپنے مطالبے کے تحت ویٹو کا استعمال بتایا جا رہا ہے۔
وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ناکامی کا اعتراف
یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے برسلز میں ہونے والے اجلاس کے بعد، یورپی یونین کی سربراہ خارجہ کاجا کالاس نے تسلیم کیا کہ روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے معاملے پر 27 رکن ممالک کا متفق نہ ہونا ایک ’ناکامی‘ ہے۔
کالاس نے کہا، "یہ ایک ناکامی ہے اور ایسا پیغام ہے جو ہم آج بھیجنا نہیں چاہتے تھے، لیکن کام جاری رہے گا۔”
ہنگری کا مطالبہ اور ویٹو
ہنگری نے اس ہفتے کے شروع میں ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ روس پر 20 ویں پابندیوں کے پیکج پر ویٹو کرے گا جب تک کہ اسے یوکرین سے ہونے والی روسی تیل کی ترسیل بحال نہیں ہو جاتی۔
ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر سزیجارٹو نے کہا، "ہنگری اس پر ویٹو کرے گا۔ جب تک یوکرین ڈروژبا پائپ لائن کے ذریعے ہنگری اور سلوواکیہ کو تیل کی ترسیل بحال نہیں کرتا۔”
یوکرین کے لیے 90 ارب یورو کے قرضے پر سوالیہ نشان
ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے کہا ہے کہ وہ اسی وجہ سے یوکرین کے لیے 90 ارب یورو کے قرضے کی منظوری کو بھی روکیں گے، جس پر یورپی یونین کے رہنماؤں نے دسمبر 2023 میں اتفاق کیا تھا۔
کاجا کالاس نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یورپی کونسل کی متفقہ فیصلوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔
یورپی رہنماؤں کی کیف روانگی
یورپی کونسل کے صدر انٹونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین منگل کو کیف پہنچیں گے، جہاں وہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے اس معاملے پر بات کریں گے۔
کوسٹا نے اوربان کو خط لکھ کر خبردار کیا ہے کہ یورپی کونسل کے فیصلوں کی خلاف ورزی وفادارانہ تعاون کے اصولوں کے خلاف ہے۔
ڈروژبا پائپ لائن تنازعہ
ہنگری اور سلوواکیہ یوکرین پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ ڈروژبا پائپ لائن کی بحالی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ یہ پائپ لائن روسی حملوں میں تباہ ہوئی تھی۔
سلوواکیہ کا دعویٰ ہے کہ پائپ لائن مرمت کے بعد تیار ہے لیکن یوکرین اسے بند رکھے ہوئے ہے تاکہ سلوواکیہ اور ہنگری پر دباؤ ڈالا جا سکے۔
دیگر یورپی ممالک کا ردعمل
فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے کہا ہے کہ روس پر 20 ویں پابندیاں عائد کرنا یقینی ہے، سوال صرف وقت کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ملک کو اپنے وعدوں کا پاس رکھنا چاہیے۔
اسٹونیا کے وزیر خارجہ مارگس تساحکنا نے خبردار کیا کہ اگر یورپی یونین روس پر پابندیاں عائد نہیں کر سکتا تو روس کو فائدہ ہوگا۔
نئی پابندیوں کی تجاویز
یورپی یونین نے فروری 2024 کے شروع میں روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی تجاویز پیش کی تھیں، جن کا نشانہ بینکنگ اور توانائی کے شعبے ہیں۔ ان میں روسی تیل لے جانے والے جہازوں کو سمندری خدمات فراہم کرنے پر پابندی بھی شامل ہے۔
کاجا کالاس نے یہ بھی اعلان کیا کہ انہوں نے یورپی یونین میں روسی سفارتکاروں کی تعداد 40 تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

