ری یونین میں مپاکس کے دو نئے کیسز سامنے آئے، خطرے سے دوچار گروپس کے لیے ویکسینیشن مہم شروع
ری یونین کے علاقائی صحت ایجنسی (ARS) نے پیر 23 فروری کو جزیرے پر مپاکس (چیچک بی) کے دو نئے کیسز کی تصدیق کی ہے۔ صحت حکام کے مطابق، یہ دونوں مریض 9 فروری کو مڈغاسکر سے درآمد ہونے والے ایک تصدیق شدہ مریض سے منسلک ہیں اور ایک ہی گھرانے کے رکن ہیں۔
ان نئے کیسز کے ساتھ ہی، سال 2025 کے آغاز سے اب تک ری یونین میں مپاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کی کل تعداد بڑھ کر چار ہو گئی ہے۔
خطے میں وائرس کی گردش کے پیش نظر احتیاطی مہم
ہند سمندر کے خطے، خاص طور پر مڈغاسکر میں وائرس کی مسلسل گردش کو دیکھتے ہوئے، ری یونین ARS نے 9 فروری کو ہی ایک احتیاطی ویکسینیشن مہم کا آغاز کر دیا تھا۔ اس مہم کا ہدف ان گروپس کو بنایا گیا ہے جو اس بیماری کے لیے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔
ویکسینیشن کے اہل افراد
صحت ایجنسی کے مطابق، ویکسینیشن مہم میں درج ذیل افراد شامل ہیں:
- وہ مسافر جو وائرس کے فعال گردش والے علاقوں (جیسے مڈغاسکر) کا سفر کر رہے ہیں۔
- متعدد جنسی شراکت دار رکھنے والے افراد۔
- جنسی کارکن۔
- ممکنہ مریضوں کے ساتھ کام کرنے والا طبی عملہ۔
- کمزور قوت مدافعت رکھنے والے افراد۔
ویکسین لگانے کا طریقہ کار
ویکسینیشن جزیرے کے تین مخصوص مراکز پر اپائنٹمنٹ کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ معیاری ویکسینیشن شیڈول میں چار ہفتوں کے وقفے سے دو خوراکیں شامل ہیں۔ تحفظ دوسری خوراک لگنے کے دو ہفتے بعد مکمل سمجھا جاتا ہے۔
تاہم، جن افراد نے بچپن میں روایتی چیچک کی ویکسین لگوائی تھی، ان کے لیے صرف ایک بوسٹر خوراک کافی ہوگی۔
مپاکس کی علامات اور پھیلاؤ
مپاکس ایک وائرل بیماری ہے جس کی بنیادی علامات جلد پر دانے نکلنا یا جھلیوں کے زخم ہیں۔ دیگر علامات میں بخار، سر درد، اور گلٹیوں میں سوجن شامل ہو سکتی ہیں۔
یہ وائرس متاثرہ شخص کے زخموں، جسمانی رطوبتوں، یا آلودہ اشیاء (جیسے بستر یا کپڑے) کے قریبی رابطے سے پھیلتا ہے۔
صحت حکام کی ہدایات
علاقائی صحت ایجنسی نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ جو بھی شخص مذکورہ علامات ظاہر کرے، خاص طور پر مڈغاسکر یا کسی ایسے خطے سے واپس آنے والے مسافر جہاں وائرس فعال ہے، وہ فوری طور پر اپنے ڈاکٹر یا SAMU-Centre 15 (15 نمبر) سے رابطہ کریں۔
صحت حکام نے زور دیا کہ ایسے افراد کو طبی مشورہ ملنے تک خود کو الگ تھلگ کر لینا چاہیے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور اگر وہ ویکسینیشن کے اہل ہیں تو اسے لازماً لگوائیں۔

