کراک میں ایمبولینس پر دہشت گرد حملے میں تین ایف سی اہلکار شہید
خیبرپختونخوا کے ضلع کراک کے علاقے بدراخیل میں زخمی سیکورٹی اہلکاروں کو لے جانے والی ایمبولینس پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں کم از کم تین فرنٹیئر کانسٹیبلری کے جوان شہید ہو گئے ہیں۔ ضلعی پولیس افسر کے مطابق یہ واقعہ پیر کو پیش آیا۔
حملے کی تفصیلات
شہید ہونے والے اہلکار درگاہ شہیدان کے علاقے میں ایف سی چوکی پر ہونے والے ایک کوآڈکوپٹر حملے میں زخمی ہوئے تھے۔ انہیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ راستے میں ایمبولینس کو نشانہ بنایا گیا۔
ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد
ضلعی پولیس افسر کے مطابق کوآڈکوپٹر حملے میں کم از کم پانچ ایف سی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ ایمبولینس پر حملے میں دو ریسکیو اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔
تحقیقات اور کارروائی
حملے کے بعد پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے علاقے میں تلاشی اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔ واقعے کی تفصیلی تحقیقات جاری ہیں۔
سرحد پار دہشت گردی کے تناظر میں
افغانستان میں 2021 کے بعد طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے پاکستان میں سرحد پار دہشت گرد سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خاص طور پر خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے صوبے، جو افغانستان کے ساتھ سرحد بانٹتے ہیں، ان حملوں کا زیادہ نشانہ بنے ہیں۔
پاکستان کی جوابی کارروائیاں
دہشت گرد واقعات میں اضافے کے درمیان، پاکستان نے حالیہ خودکش حملوں کے جواب میں پاکستان-افغانستان سرحد کے ساتھ فتنہ الخوارج، اس کے اتحادیوں اور داعش خراسان سے تعلق رکھنے والے سات دہشت گرد کیمپوں اور پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا تھا۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق یہ فضائی حملے اتوار کی صبح افغانستان کے صوبوں ننگرہار، پکتیکا اور خوست میں کیے گئے تھے، جن میں 80 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے۔
اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگی
پاکستان کی سرحدی علاقوں میں حالیہ کارروائیاں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کی لہر کے بعد آئی ہیں، جن میں متعدد شہریوں اور سیکورٹی اہلکاروں کی جانیں گئی ہیں۔
اسلام آباد نے بارہا افغان طالبان حکومت سے اپنے علاقے سے کام کرنے والے عسکریت پسند گروہوں پر قابو پانے کی اپیل کی ہے، لیکن کابل نے زیادہ تر ان اپیلوں پر کوئی خاص ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

