پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی کے لیے ’ریلیز فورس‘ قائم کرنے کا اعلان کر دیا
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے جدوجہد کرنے والی ایک نئی تنظیم ’عمران خان ریلیز فورس‘ کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا اعلان
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جمعرات کو سپریم کورٹ کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انہیں قید پارٹی چیئرمین کی طرف سے ’سٹریٹ موومنٹ‘ کی قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ انہوں نے ’عمران خان ریلیز فورس‘ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فورس کا باقاعدہ رجسٹریشن کیا جائے گا اور یہ پرامن جدوجہد کرے گی۔
فورس کی تشکیل اور طریقہ کار
آفریدی کے مطابق فورس کے اراکین کی حلف برداری عید الفطر کے فوری بعد پشاور میں کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ فورس کا ایک واضح کمانڈ ڈھانچہ ہوگا اور کمانڈ کی ذمہ داریاں دینے کا فیصلہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان خود کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی جدوجہد کا آغاز کرنے سے پہلے تیاریاں مکمل کر لی جائیں گی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ عدالت کے احکامات ’کوڑے دان میں پھینکے جا رہے ہیں‘ اور دعویٰ کیا کہ پارٹی کے بانی چیئرمین کو اب بھی اپنے ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہے۔ آفریدی کے مطابق، یہ تحریک آئین، جمہوریت اور آزاد میڈیا کی بالادستی کے لیے ہوگی۔
عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش
73 سالہ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ایک میڈیکل رپورٹ میں یہ انکشاف ہونے کے بعد ان کی رہائی کے لیے اپنی کال میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا ہے کہ ان کی دائیں آنکھ میں صرف 15 فیصد بینائی باقی رہ گئی ہے۔
حکومتی موقف
حکومت کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم کو بہترین ممکنہ علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت اور عمران خان کے ذاتی ڈاکٹر علاج سے مطمئن ہیں، لیکن ان کی بہن علیمہ خان اس معاملے کو سیاسی بنا رہی ہیں۔
عمران خان پر مقدمات کا ایک سلسلہ ہے جسے وہ اپریل 2022 میں پارلیمانی ووٹ کے بعد اپنے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سیاسی طور پر محرک قرار دیتے ہیں۔

