پاکستان بھر میں رمضان المبارک کے چاند کی تلاش، مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس جاری
پشاور میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس رمضان المبارک 1447 ہجری کے چاند کی رویت کے لیے منعقد ہو رہا ہے۔ چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کی زیرصدارت یہ اجلاس وقف ہال میں ہو رہا ہے۔
زونل کمیٹیوں کی متحرک کارروائی
ملک بھر میں لاہور، کراچی، کوئٹہ اور اسلام آباد میں زونل رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس بھی بیک وقت منعقد ہو رہے ہیں۔ یہ کمیٹیاں اپنے اپنے خطوں سے چاند کی رویت کی گواہیاں وصول اور جانچ کریں گی۔
سپارکو کی پیش گوئی اور سائنسی معاونت
پاکستان سپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے مطابق رمضان المبارک کا چاند 18 فروری کو نظر آنے کا امکان ہے۔ اگر چاند نظر آجاتا ہے تو 19 فروری روزے کا پہلا دن ہوگا۔
ادارے کے اندازے کے مطابق، 18 فروری کو غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریباً 25 گھنٹے 48 منٹ ہوگی۔ ساحلی علاقوں میں غروب آفتاب اور غروب ماہتاب کے درمیان تقریباً 59 منٹ کا فرق ہوگا، جس سے ننگی آنکھ سے چاند دیکھنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ چاند کی رویت میں معاونت کے لیے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور محکمہ موسمیات پاکستان کے نمائندے بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔
عرب ممالک میں رویت، ایشیا کے بعض حصوں میں تاخیر
ایک روز قبل سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت میں رمضان المبارک کا چاند دیکھا گیا تھا، جہاں کے باشندے 18 فروری سے روزے رکھ رہے ہیں۔ دوسری جانب منگل کے روز آذربائیجان، قازقستان، ازبکستان، فلپائن، جاپان، ترکی، ملائیشیا، انڈونیشیا، سنگاپور اور برونائی میں چاند نظر نہیں آیا۔
ملک بھر میں یکساں روزہ رکھنے کا فیصلہ
رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس سال پورے پاکستان میں ایک ہی دن روزہ رکھا جائے گا۔ مرکزی کمیٹی کا اجلاس اصل میں سہ پہر ساڑھے چار بجے ہونا تھا، جسے بعد ازاں شام 5 بجے کے بعد شروع ہونے کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔
قمری تقویم کی بنیاد
اسلامی مہینے 29 یا 30 دن کے ہوتے ہیں اور ان کا آغاز و اختتام ہلال کے مشاہدے پر منحصر ہوتا ہے۔ قمری بنیادوں پر استوار اسلامی کیلنڈر گریگورین سال سے تقریباً 10 دن چھوٹا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے رمضان المبارک ہر سال گریگورین کیلنڈر میں آگے سرک جاتا ہے۔
فیصلے کا اعلاب مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے جلد متوقع ہے۔

