مونیخ سیکیورٹی کانفرنس کے موقع پر خطے کی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف تعاون پر تبادلہ خیال
مونیخ: پاکستان کے آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل اسیم منیر نے ہفتے کے روز 62 ویں مونیخ سیکیورٹی کانفرنس کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی۔ بین الخدماتی تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور، خطے میں بدلتی ہوئی سلامتی کی صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔
جرمنی کے سرکاری دورے کے دیگر اہم پہلو
فیلڈ مارشل اسیم منیر 12 سے 14 فروری تک جرمنی کے سرکاری دورے پر تھے۔ اس دورے کے دوران انہوں نے نہ صرف سالانہ سلامتی فورم میں شرکت کی بلکہ جرمنی، برازیل اور لبنان کے عسکری قائدین سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مرکز موجودہ سلامتی کے چیلنجز، دو طرفہ دفاعی تعاون اور عالمی امن کو فروغ دینے کی ضرورت تھی۔
جرمن حکام سے ملاقاتیں
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق، فیلڈ مارشل منیر نے جرمنی کے وفاقی وزیر داخلہ الیگزنڈر ڈوبرنڈٹ، جرمن چانسلر کے خارجہ پالیسی و سلامتی پالیسی مشیر گنٹر ساؤٹر، اور وفاقی مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس جنرل کارسٹن بروئر سے بھی ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں دو طرفہ دفاعی تعاون اور عالمی امن و سلامتی کو دو طرفہ اور کثیر الجہتی مکالمے کے ذریعے فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
برازیل اور لبنان کے عسکری قائدین سے تعاون
دورے کے دیگر اہم لمحات میں برازیلین مسلح افواج کے چیف آف جوائنٹ اسٹاف ایڈمرل ریناٹو روڈریگز ڈی اگیولر فریئر اور لبنان کی مسلح افواج کے کمانڈر جنرل رودولف ہیکل سے ملاقاتیں شامل تھیں۔ ان ملاقاتوں میں عالمی و علاقائی سلامتی کی صورتحال اور باہمی دفاعی تعاون کو بڑھانے کے اقدامات پر بات چیت ہوئی۔
کانفرنس کا مرکزی مقصد
مونیخ سیکیورٹی کانفرنس کا بنیادی مقصد عالمی امن کو دو طرفہ اور کثیر الجہتی مکالمے کے ذریعے فروغ دینا ہے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ کی اس فورم میں شرکت اور متعدد ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں خطے میں پاکستان کے فعال کردار کی عکاس ہیں۔

