کوئٹہ دھماکے کے بعد ریلوے آپریشن معطل، جعفر ایکسپریس سمیت متعدد ٹرینیں تاخیر کا شکار
کوئٹہ: صوبہ بلوچستان میں ریلوے ٹریک کے قریب ہونے والے مہلک دھماکے کے بعد سیکیورٹی خدشات کے باعث کوئٹہ جانے اور وہاں سے آنے والی تمام ٹرینوں کی آمد و رفت دوسرے روز بھی معطل رہی۔ ریلوے حکام نے صورتحال کو “ناگزیر حالات” قرار دیتے ہوئے متعدد اہم ٹرینوں کی منسوخی اور ان کے راستوں میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔
جعفر ایکسپریس اور دیگر ٹرینوں کی منسوخی
حکام کے مطابق، کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس آج روانہ نہیں ہوگی۔ جبکہ پشاور سے کوئٹہ آنے والی اس کی واپسی کی سروس کو جیکب آباد سے ہی واپس بھیج دیا جائے گا۔ محکمہ ریلوے نے بتایا کہ صوبے بھر میں ٹرینوں کی آمد و رفت گزشتہ دو روز سے معطل ہے۔ بولان میل اور چمن پیسنجر سروسز پہلے ہی کراچی کے لیے بند تھیں۔
کراچی سے روانہ ہونے والی ٹرینیں بھی شدید تاخیر کا شکار
دوسری جانب، کراچی سے روانہ ہونے والی متعدد ٹرینیں بھی شیڈول سے کئی گھنٹے تاخیر سے چلیں، جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ریلوے پولیس کے مطابق، تیزگام ایکسپریس اپنے مقررہ وقت شام ساڑھے پانچ بجے کے بجائے رات ڈیڑھ بجے روانہ ہوئی۔ اس تاخیر پر مسافروں نے کینٹ اسٹیشن پر احتجاج بھی کیا۔
ریلوے پولیس نے مزید بتایا کہ سکھر ایکسپریس، جسے رات ساڑھے گیارہ بجے روانہ ہونا تھا، جمعہ کی صبح تک بھی کراچی سے نہیں نکل سکی تھی، جس سے سینکڑوں مسافر اسٹیشن پر پھنسے رہے۔
دھماکے کے پس منظر میں سلامتی کے خدشات
یہ تعطل 24 مئی کو کوئٹہ کے چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک کے پاس ہونے والے ایک زوردار دھماکے کے بعد پیدا ہوا، جس میں فرنٹیئر کور کے تین اہلکاروں سمیت کم از کم 14 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
فوجی قیادت کا ردعمل
اس واقعے کے بعد چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی قوم کے عزم کو ناقابل تسخیر قرار دیتے ہوئے اسے بھرپور طاقت سے کچلنے کا عزم ظاہر کیا۔ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق، فیلڈ مارشل منیر نے ضلع ژوب میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر فوجیوں کے ساتھ وقت گزارا اور کہا کہ بھارتی سرپرستی میں چلنے والے فتنہ الہند اور اس کے پراکسیز کے اس بزدلانہ حملے سے مسلح افواج اور قوم کے حوصلے پست نہیں ہو سکتے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بلوچستان کے عوام کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے تمام سہولت کاروں، معاونین اور مرتکب عناصر کا بھرپور تعاقب جاری رکھا جائے گا۔

