فرانس میں ایک ایسا ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے جس نے بین الاقوامی سطح پر تہلکہ مچا دیا ہے۔ گرینوبل کے پراسیکیوٹر نے منگل کو تصدیق کی کہ 79 سالہ ایک سابق استاد کو 1967 سے 2022 تک کے عرصے میں 389 نابالغ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ریپ کے مقدمات میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔
یو ایس بی ڈرائیو سے ہولناک ریکارڈ کا انکشاف
پراسیکیوٹر ایٹین مینٹو کے مطابق ملزم کے بھانجے کو اتفاقاً ایک یو ایس بی ڈرائیو ملی جس میں 13 سے 17 سال کے بچوں کے ساتھ "جنسی تعلقات” کا تفصیلی ریکارڈ موجود تھا۔ یہ ریکارڈ 15 جلدوں پر مشتمل تھا جس کی بنیاد پر 89 متاثرین کی ابتدائی نشاندہی کی گئی، جو بعد میں بڑھ کر 389 تک پہنچ گئی۔
بین الاقوامی سطح پر پھیلے ہوئے جرائم
پراسیکیوٹر کے مطابق یہ واقعات نو مختلف ممالک میں پیش آئے جہاں ملزم بطور معلم کام کرتا تھا۔ ان ممالک میں جرمنی، سوئٹزرلینڈ، مراکش، نائجر، الجزائر، فلپائن، بھارت، کولمبیا اور نیو کیلیڈونیا شامل ہیں۔ اب پراسیکیوٹر نے مزید ممکنہ متاثرین سے رابطے کی اپیل کی ہے۔
ماں اور خالہ کے قتل کا بھی اعتراف
تفتیش کے دوران ملزم نے 1970 کی دہائی میں اپنی کینسر زدہ ماں کو تکیے سے دم گھونٹ کر اور 1990 کی دہائی میں 92 سالہ خالہ کو اسی طریقے سے قتل کرنے کا بھی اعتراف کیا ہے۔
ملزم کی حراست اور قانونی کارروائی
79 سالہ ملزم کو اب تک حراست میں رکھا گیا ہے اور اس کے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ یہ کیس فرانس میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم کی تاریخ کے بدترین واقعات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس کیس کی نوعیت اور پیمانہ انتہائی غیر معمولی ہے۔
