مڈغاسکر میں سائیکلون گیزانی کے تباہ کن حملے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 35 تک پہنچ گئی ہے۔ ملک کے دوسرے بڑے بندرگاہی شہر تواماسینا کا 75 فیصد حصہ ملیامیٹ ہو چکا ہے جہاں 250 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں نے ہر طرف بربادی پھیلا دی۔
شہر کی مکمل تباہی اور انسانی المیہ
قومی ریسک اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ بیورو (BNGRC) کے عارضی اعدادوشمار کے مطابق 6 افراد لاپتہ ہیں جبکہ 374 شدید زخمی ہیں۔ 400,000 سے زائد آبادی والے شہر تواماسینا میں بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا ہے۔ کولونل مائیکل رانڈریانیرینا نے صورتحال کو ایک آفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر کا بیشتر حصہ زمین بوس ہو چکا ہے۔
بین الاقوامی امداد کی فوری اپیل
صدر مائیکل رانڈریانیرینا نے بدھ کے روز بین الاقوامی شراکت داروں اور فنڈ دینے والوں سے امداد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال مڈغاسکر کی اکیلے صلاحیتوں سے باہر ہے۔ صدارتی دفتر کی جاری کردہ ویڈیوز میں صدر کو سیلاب زدہ گلیوں میں پانی میں چلتے دکھایا گیا ہے۔
ماضی کے تباہ کن طوفانوں کی یادیں تازہ
ری یونین آئی لینڈ کے سائیکلون سنٹر (CMRS) نے اسے ٹماٹاوے کے علاقے پر سیٹلائٹ دور کے سب سے شدید حملوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ یہ طوفان 1994 کے سائیکلون گیرالڈا کے برابر ہے جس نے فروری 1994 میں کم از کم 200 افراد کو ہلاک اور 500,000 کو بے گھر کیا تھا۔
مستقبل کے خطرات اور موسمیاتی انتباہ
اگرچہ طوفان زمین سے ٹکرانے کے بعد کمزور ہو گیا ہے، لیکن یہ جزیرے کو مشرق سے مغرب کی طرف عبور کر رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گیزانی موزمبیق چینل میں واپس جانے کے بعد اپنی شدت دوبارہ حاصل کر سکتا ہے، جس سے سیلاب کے نئے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

