عمان میں ہونے والے ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ نے ماحول کو ‘بہت مثبت’ قرار دیا ہے، تاہم سفارتی اور سلامتی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ نازک مذاکرات متعدد بنیادی رکاوٹوں کی وجہ سے ناکام ہو سکتے ہیں۔
ماضی کا بوجھ اور موجودہ کشیدگی
یہ مذاکرات اس سال جون میں امریکی فضائی حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی سرکاری سطح کی ملاقات ہیں۔ ان حملوں نے دونوں ممالک کے درمیان موجودہ کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ ابتدائی گفتگو کے بعد امید کی کرن نظر آتی ہے، لیکن سیاسی اور فوجی حالات انتہائی نازک ہیں۔
مذاکرات کے دائرہ کار پر بنیادی اختلاف
پہلی بڑی رکاوٹ مذاکرات کے دائرہ کار پر اختلاف ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ بات چیت صرف جوہری پروگرام تک محدود رہے۔ دوسری طرف امریکہ چاہتا ہے کہ ایرانی میزائل پروگرام اور خطے میں ایران کی فوجی سرگرمیوں پر بھی بات ہو۔ ماہرین کے مطابق یہ بنیادی اختلاف پورے عمل کو ناکام بنا سکتا ہے۔
فوجی دباؤ اور خلیج میں امریکی موجودگی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ‘آرمڈا’ قرار دیے جانے والے بحری بیڑے کی خلیج میں تعیناتی نے صورت حال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ ایران اسے براہ راست خطرہ قرار دے رہا ہے اور کہہ چکا ہے کہ مذاکرات صرف اسی صورت جاری رہ سکتے ہیں اگر امریکہ فوجی دھمکیاں بند کر دے۔
معاشی پابندیاں اور اعتماد کا بحران
مذاکرات ختم ہوتے ہی امریکہ نے ایرانی تیل کی برآمدات کو نشانہ بنانے والی نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ایران کے مطابق یہ اقدام مذاکرات کے ‘مثبت’ ماحول کے منافی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معاشی دباؤ ایرانی حکومت میں سمجھوتے کے حامیوں کو کمزور کر رہا ہے۔
جوہری صلاحیت پر امریکی موقف
امریکہ ایران سے ‘صفر جوہری صلاحیت’ کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام کے حق پر ڈٹا ہوا ہے۔ یورینیم کی افزودگی جیسے اہم معاملات پر سمجھوتے کے بغیر مذاکرات کامیاب ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان تمام رکاوٹوں کے باوجود مذاکرات کا عمل جاری رہنا اپنے آپ میں ایک اہم پیشرفت ہے، لیکن حتمی کامیابی کے لیے دونوں فریقوں کو سنجیدہ لچک دکھانے کی ضرورت ہوگی۔

