یوکرین کے صدر وولوڈیمیر زیلینسکی نے ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر قیادت امریکی انتظامیہ یوکرین میں جاری جنگ کا اختتام جون 2026 تک دیکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے روسی اور یوکرینی وفود کے اگلے ہفتہ امریکا میں نئی بات چیت کے لیے ملنے کی اطلاعات کی بھی تصدیق کی۔
ابوظہبی مذاکرات کے بعد امریکا میں نئی میٹنگ
صدر زیلینسکی نے جمعرات اور جمعہ کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں ہونے والی تین فریقہ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا پہلی بار دونوں فریقوں کے مذاکرات کاروں کو براہ راست مدعو کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اجلاس اگلے ہفتہ شاید امریکا کے شہر میامی میں منعقد ہوگا۔
جون تک جنگ بندی کا امریکی ہدف
یوکرینی صدر کے مطابق، امریکی انتظامیہ جنگ کا اختتام "گرمیوں کے آغاز، یعنی جون تک” چاہتی ہے۔ یہ بیان ہفتے تک embargo کے تحت تھا۔ زیلینسکی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ دعوت ایک اہم سفارتی پیشرفت ہے اور اس سے امن عمل میں نئی جان پڑ سکتی ہے۔
بین الاقوامی ردعمل اور مستقبل کے امکانات
اس اعلان کے ساتھ ہی یوکرین پر روسی حملے کے دو سال سے زیادہ عرصے بعد ایک ممکنہ سیاسی حل کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ عالمی مبصرین اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا یہ نئی مذاکرات کا سلسلہ جنگ میں فیصلہ کن موڑ ثابت ہوگا۔
- دونوں ممالک کے درمیان حالیہ مہینوں میں سفارتی رابطے محدود رہے ہیں۔
- ابوظہبی مذاکرات کو ایک اہم سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
- امریکی ہدف کے حوالے سے عالمی رہنماؤں کے ردعمل کا انتظار ہے۔
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب جنگ کے محاذ پر حالات کشیدہ ہیں اور دونوں اطراف سے جاری جانی نقصان کے باعث عالمی برادری امن کی کوششوں میں تیزی لانا چاہتی ہے۔

