ہوانا: کیوبا کی حکومت نے ملک میں توانائی کے شدید بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا ایک جامع پیکیج جاری کر دیا ہے۔ نائب وزیر اعظم آسکر پیریز-اولیوا فراگا نے ریاستی ٹیلی ویژن پر اعلان کیا کہ ان اقدامات کا مقصد ایندھن کی بچت کرتے ہوئے خوراک، بجلی کی پیداوار اور زرمبادلہ کمانے والی سرگرمیوں کو ترجیح دینا ہے۔
پیکیج میں کیا اقدامات شامل ہیں؟
حکومت کی جانب سے جاری کردہ پیکیج میں درج ذیل اہم اقدامات شامل ہیں:
- سرکاری اداروں میں کام کے ہفتے کو چار دن (سوموار سے جمعرات) تک محدود کرنا۔
- ملک بھر میں ایندھن کی فروخت پر نئی پابندیاں عائد کرنا۔
- صوبوں کے درمیان بس اور ریل سروس میں نمایاں کمی۔
- بعض سیاحتی اداروں کی عارضی بندش۔
تعلیمی نظام پر اثرات
تعلیمی شعبے میں بھی تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ حکومت کے مطابق اسکولوں میں تعلیمی اوقات کم کر دیے گئے ہیں جبکہ جامعات میں نیم حاضری کا نظام نافذ کیا جائے گا۔ ان اقدامات کا مقصد توانائی کے استعمال میں کمی لانا بتایا جا رہا ہے۔
امریکی پابندیوں کا کردار
یہ اقدامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب 96 لاکھ آبادی والا یہ جزیرہ گذشتہ چھ سال سے سنگین معاشی بحران کا شکار ہے۔ کیوبا 1962 سے امریکی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں بحران اس وقت اور گہرا ہوا جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے۔ اس آرڈر کے تحت امریکہ کیوبا کو تیل فروخت کرنے والے ممالک پر محصولات عائد کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ میکسیکو، جو 2023 سے کیوبا کو تیل فراہم کر رہا تھا، ایسا کرنا بند کر دے گا۔
دونوں ممالک کا موقف
واشنگٹن اپنی پالیسی کو "غیر معمولی خطرے” سے جوڑتا ہے۔ دوسری طرف ہوانا کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیاں جزیرے کی معیشت کو "گھٹنے” کا نشانہ بنا رہی ہیں۔
حکومت کے مطابق، امریکی دباؤ انہیں یہ فیصلے کرنے پر مجبور کر رہا ہے تاکہ بنیادی خدمات اور معاشی سرگرمیاں کسی نہ کسی طرح برقرار رہ سکیں۔ کیوبا میں بجلی کی کٹوتی اور ایندھن کی قلت، جو گذشتہ کچھ سالوں سے جاری تھی، حالیہ ہفتوں میں انتہائی تشویشناک سطح پر پہنچ گئی ہے۔

