جنیوا: اقوام متحدہ میں روسی سفیر نے اعلان کیا ہے کہ اگر برطانیہ اور فرانس شامل ہوں تو روس کثیر جہتی جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول کے مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔ یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس اور امریکہ کے درمیان آخری باقی رہ جانے والا بڑا جوہری معاہدہ ’نیو اسٹارٹ‘ باضابطہ طور پر ختم ہوچکا ہے۔
نیٹو اتحادیوں کی شمولیت شرط
کانفرنس برائے خلع سلاح کے اجلاس کے دوران روس کے جنیوا میں اقوام متحدہ کے سفیر گینیڈی گیٹیلوف نے کہا، "اصولی طور پر روس اس عمل میں شامل ہوگا اگر برطانیہ اور فرانس، جو نیٹو میں امریکہ کے فوجی اتحادی ہیں اور خود کو جوہری اتحاد قرار دیتے ہیں، بھی اس میں شریک ہوں۔” یہ اجلاس نیو اسٹارٹ معاہدہ کی میعاد ختم ہونے کے فوری بعد جنیوا میں منعقد ہوا۔
نیو اسٹارٹ معاہدہ کی میعاد ختم
2010 میں طے پانے والا نیو اسٹارٹ معاہدہ دونوں ممالک کے تعینات کیے گئے اسٹریٹجک جوہری ہتھیاروں اور لانچرز کی تعداد کو محدود کرتا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماسکو کی جانب سے معاہدہ کی توسیع کی تجویز کو قبول نہیں کیا، جس کے بعد یہ معاہدہ گزشتہ روز باضابطہ طور پر ختم ہوگیا۔
چین کو شامل کرنے کی امریکی کوششیں
روس کی پیشکش سے قبل، واشنگٹن نے چین کو شامل کرتے ہوئے کثیر جہتی جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول کے مذاکرات کا مطالبہ کیا تھا۔ اسی روز پینٹاگون نے اعلان کیا کہ واشنگٹن اور ماسکو 2021 کے بعد پہلی بار اپنا اعلیٰ سطحی فوجی مکالمہ دوبارہ شروع کریں گے۔
ذمہ دارانہ رویے پر دونوں ممالک کا اتفاق
کرملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعہ کو بتایا کہ روس اور امریکہ آخری جوہری معاہدہ ختم ہونے کے باوجود ذمہ دارانہ رویہ اپنانے پر متفق ہیں اور اس موضوع پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا، "ابوظہبی میں ہونے والی بات چیت میں دونوں فریقوں نے ذمہ دارانہ پوزیشن اپنانے اور اس موضوع پر جلد مذاکرات شروع کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔”
ٹرمپ کا نئے معاہدے کا مطالبہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے ساتھ ایک "نئے، بہتر اور جدید معاہدے” کی وکالت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیو اسٹارٹ معاہدہ سابق صدر بارک اوباما کی انتظامیہ کے دور میں "غلط طریقے سے طے پایا تھا”۔ واشنگٹن طویل عرصے سے چین کو مستقبل کی کسی بھی جوہری بحث میں شامل کرنا چاہتا ہے، جس سے بیجنگ نے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ، اگرچہ ترقی پذیر ہے، لیکن پھر بھی کم پیمانے پر ہے۔

