# ایران اور امریکہ کے درمیان فضائی حملوں کا تبادلہ، ٹرمپ نے سمجھوتے کی تردید کردی
**واشنگٹن/کویت شہر:** ایران نے جمعرات کو کویت میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا، یہ کارروائی امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی ڈرون آپریشن کو تباہ کرنے کے جواب میں کی گئی۔ یہ کشیدگی اس وقت سامنے آئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے ساتھ کسی مبینہ سمجھوتے کی رپورٹ کو مسترد کر دیا۔
یہ محدود حملے اس نازک صورتحال کو اجاگر کرتے ہیں جہاں اپریل کے اوائل میں نافذ ہونے والی عارضی جنگ بندی کو ایک مستقل معاہدے میں تبدیل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تین ماہ سے جاری اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اہم بحری گزرگاہ کی بندش سے عالمی تجارت متاثر ہوئی ہے۔
## امریکی اور ایرانی فوجی کارروائیاں
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق، امریکی افواج نے پانچ ایرانی حملہ آور ڈرونز کو مار گرایا اور بندر عباس کی بندرگاہ میں ایک زمینی کنٹرول اسٹیشن کو نشانہ بنایا جو چھٹا ڈرون لانچ کرنے والا تھا۔ اس کے بعد کویتی فورسز نے ملک کی جانب داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو روک لیا، جہاں ایک بڑا امریکی فوجی اڈہ موجود ہے۔
ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ "یہ کارروائیاں محدود، خالصتاً دفاعی اور جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے تھیں۔”
دوسری جانب، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے تسنیم نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اس نے اس امریکی اڈے کو نشانہ بنایا جو بندر عباس ایئرپورٹ کے قریب صبح سویرے حملے کا ذمہ دار تھا اور کسی بھی قسم کی دہرائی جانے والی کارروائی پر "زیادہ فیصلہ کن جواب” دیا جائے گا۔
کویت نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایران سے فوری طور پر اس "سنگین کشیدگی” کو روکنے کا مطالبہ کیا، جسے اس نے اپنی خودمختاری کی "کھلی خلاف ورزی” قرار دیا۔
## ٹرمپ کا موقف: کوئی ملک آبنائے ہرمز کو کنٹرول نہیں کرے گا
صدر ٹرمپ بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ جنگ کا خاتمہ قریب ہے لیکن بدھ کو کابینہ کے اجلاس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ابھی تک مذاکرات سے مطمئن نہیں ہیں اور امریکہ پابندیوں میں نرمی پر بات نہیں کر رہا، جو تہران کے اہم مطالبات میں سے ایک ہے۔
انہوں نے ایرانی سرکاری ٹی وی کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا جس میں ایک غیر سرکاری مسودے کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کو ایک ماہ کے اندر جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کر دیا جائے گا، اور ایران اور خلیجی ریاست عمان مشترکہ طور پر ٹریفک کا انتظام سنبھالیں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ کوئی بھی ایک ملک اس آبی گزرگاہ پر کنٹرول نہیں رکھے گا، اور وہ عمان کو بظاہر دھمکی دیتے ہوئے نظر آئے، جس کے ساتھ امریکہ کے کئی دہائیوں پر محیط فوجی اور اقتصادی تعلقات ہیں۔ ٹرمپ نے کہا، "کوئی بھی اس (آبنائے) کو کنٹرول نہیں کرے گا۔ یہ بین الاقوامی پانی ہیں، اور عمان بھی ویسا ہی برتاؤ کرے گا جیسا کہ باقی سب کرتے ہیں ورنہ ہمیں انہیں اڑا دینا پڑے گا۔ وہ یہ سمجھتے ہیں، وہ ٹھیک رہیں گے۔”
تہران نے "امریکی حکام کی دھمکیوں” کے بعد عمان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے پر اپنے کنٹرول کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں دو جہازوں کو روکا اور 26 کو گزرنے دیا۔ جنگ سے پہلے یہاں سے روزانہ اوسطاً 100 سے زائد جہاز گزرتے تھے۔
## تازہ پابندیاں اور مذاکرات کی پیچیدگیاں
تنازعے کی ایک اور پرت اس وقت شامل ہوئی جب امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کی خلیج فارس آبنائے اتھارٹی پر پابندیاں عائد کر دیں، یہ ادارہ آبنائے سے گزرنے والی جہاز رانی کے انتظام کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
خبر رساں ایجنسی تسنیم کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری علی باقری کنی نے کہا کہ تہران امریکہ سے ایرانی فنڈز کے اجراء پر اصرار کر رہا ہے۔ ایران اپنی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کے خاتمے اور پابندیوں کے اٹھائے جانے کا بھی متقاضی ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی نے بتایا تھا کہ مسودہ معاہدے کے تحت امریکہ اپنی فوجیں فوری علاقے سے واپس بلا لے گا، جس پر بعد میں خطے میں امریکی فوجیوں کے معاملے پر مزید بات چیت ہوگی۔ وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ کو "مکمل من گھڑت” قرار دیا۔ تہران نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ایرانی ذرائع نے بتایا ہے کہ جوہری معاملے پر مزید 60 روز کے مذاکرات میں بات کی جائے گی، ٹرمپ کے کچھ قریبی حامیوں کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتا جو ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے خواہاں ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا، "اصل بات یہ ہے کہ ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔”

