مشرق وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی: اسحاق ڈار اور گوتریس کی اہم ملاقات
نیویارک: پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بدھ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی، جو اس وقت ہوئی جب امریکہ کے ایران پر تازہ حملوں اور اسرائیل کی لبنان پر شدید بمباری نے خطے میں امن کی کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
امریکی حملوں سے جنگ بندی خطرے میں
ایران نے منگل کو الزام لگایا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کے قریب اہداف پر حملہ کر کے موجودہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس صورتحال نے پاکستان کی زیر قیادت امن کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ادھر اسرائیل نے لبنان پر ایک سو بیس سے زائد فضائی حملے کیے، جو حالیہ ہفتوں میں سب سے شدید بمباری میں شمار ہوتے ہیں۔
پاکستان کی ثالثی کی کوششیں
دفتر خارجہ کے مطابق، ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ میں ہیں، نے سیکرٹری جنرل کے ساتھ مشرق وسطیٰ اور مغربی ایشیا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے لیے گوتریس کے اصولی موقف اور تعاون کو سراہا۔
ڈپٹی وزیراعظم نے اپریل میں اسلام آباد میں کامیاب مذاکرات کی میزبانی کو ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ پاکستان کی کوششوں سے سہولت فراہم کردہ جنگ بندی ابھی تک برقرار ہے اور خطے میں دیرپا امن کے لیے مسلسل مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا۔
عالمی اداروں میں اصلاحات پر زور
ملاقات کے دوران ڈپٹی وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کو برقرار رکھنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے سیکرٹری جنرل کے UN80 اقدام کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کے مفادات اصلاحاتی ایجنڈے میں مرکزی حیثیت رکھیں۔
سلامتی کونسل میں اصلاحات کے حوالے سے پاکستان کے دیرینہ موقف کو دہراتے ہوئے انہوں نے خودمختار مساوات، شفافیت اور وسیع البنیاد اتفاق رائے پر مبنی جامع اصلاحاتی عمل کی ضرورت پر زور دیا۔
جنوبی ایشیا اور مسئلہ کشمیر
وزیر خارجہ نے بھارتی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات پر تشویش کا اظہار کیا، جو علاقائی استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کا فیصلہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے اور اس کا منصفانہ حل، سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق، جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے لیے ضروری ہے۔
افغانستان اور فلسطین پر موقف
ڈپٹی وزیراعظم نے کہا کہ ایک پرامن افغانستان علاقائی استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔ تاہم، انہوں نے دہشت گرد گروہوں کی طرف سے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور قومی سلامتی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔
فلسطین کے حوالے سے انہوں نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے دو ریاستی حل اور غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے سیکرٹری جنرل کی وکالت کو سراہا۔
سیکرٹری جنرل گوتریس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی فعال مصروفیت اور بین الاقوامی امن و سلامتی میں اس کی شراکت کو سراہا۔

