# غزہ جنگ: اسرائیلی حملوں میں 73,000 سے زائد فلسطینی شہید، پاکستان کا فلسطینیوں کے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ
**نیویارک:** ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات میں فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد ریاست کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ بدھ کو نیویارک میں ہونے والی اس ملاقات میں ڈار نے غزہ امن منصوبے اور دو ریاستی حل کے لیے سیکرٹری جنرل کی کوششوں کو سراہا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب غزہ میں اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اکتوبر 2023 سے اب تک شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 73,000 سے تجاوز کر چکی ہے۔
## حماس کے نئے فوجی سربراہ کی شہادت کا اسرائیلی دعویٰ
اسرائیل نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ اس نے گزشتہ روز ایک حملے میں حماس کے مسلح ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کے نئے سربراہ محمد عودہ کو ہلاک کر دیا۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ "غزہ میں حماس کے مسلح ونگ کے کمانڈر کو کل ختم کر دیا گیا۔” حماس کی جانب سے تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل 15 مئی کو بھی اسرائیلی حملے میں القسام بریگیڈ کے سابق سربراہ عزالدین الحداد شہید ہو گئے تھے۔
## غزہ میں خونریز حملے، بچے اور خواتین سمیت متعدد شہید
ادھر غزہ میں اسرائیلی حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ منگل کو دیر البلاح کے اقصیٰ شہداء ہسپتال نے بتایا کہ النصیرات کیمپ میں فجر سے قبل ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر اسرائیلی حملے میں ایک سالہ بچے سمیت تین افراد شہید اور دس کے قریب زخمی ہو گئے۔
میڈیکل ذرائع کے مطابق، منگل کو ہی مغازی کیمپ کے مشرق میں اسرائیلی ڈرون حملے میں پانچ فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں ایک گاڑی پر فضائی حملے میں دو افراد شہید ہو گئے۔
## فلوٹیلا کارکنوں کے ساتھ سلوک پر عالمی غم و غصہ
غزہ کے لیے امداد لے جانے والے فلوٹیلا کے کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی فوج کے ناروا سلوک پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے فون پر گفتگو میں اس "قابل مذمت” سلوک کو "ناقابل قبول” قرار دیا۔
اسرائیل کے انتہا پسند وزیر اتمار بن گویر کی جانب سے کارکنوں کی ویڈیو جاری کرنے پر پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے مشترکہ طور پر اس کی مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ حراست کے دوران کارکنوں کے ساتھ "ہولناک، ذلت آمیز اور ناقابل قبول” اقدامات کیے گئے۔
## آئرلینڈ کا اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندی کا اعلان
آئرلینڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جولائی کے وسط تک مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات کی تجارت پر پابندی کا قانون منظور کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ آئرش وزیر خارجہ ہیلن میکنٹی نے کہا کہ ان کا ملک پرامن حل کا حامی ہے لیکن اسرائیلی حکومت کے حالیہ اقدامات اور آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد سے واضح ہے کہ وہ یہ راستہ اختیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

