لسبن: پرتگال میں صدارتی انتخاب کے دوسرے اور فیصلہ کن مرحلے کا ووٹنگ عمل اتوار کو اختتام کو پہنچا، جہاں ملک کی سیاسی سمت کا تعین کرنے والے مقابلے میں سوشلسٹ امیدوار انٹونیو جوز سیگورو اور دائیں بازو کی مقبولیت حاصل کرتی جماعت چیگا کے رہنما آندرے وینتورا کے درمیان براہ راست مقابلہ تھا۔
موسمی بحران کے سائے میں انتخابات
گذشتہ دو ہفتوں میں ملک کو درپیش مہلک طوفانوں اور شدید موسمی حالات نے انتخابی عمل پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس بحران کے پیش نظر، انتخابی کمیشن نے کم از کم 14 انتہائی متاثرہ حلقوں میں ووٹنگ کو ایک ہفتے کے لیے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اگرچہ امیدوار آندرے وینتورا نے قومی سطح پر انتخابات ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم باقی ماندہ حلقوں میں ووٹنگ کا عمل اتوار کو ہی مکمل ہوا۔ انتخابی نتائج کی آمد آمد ہے۔
امیدواروں کی حیثیت اور انتخابی دعوے
63 سالہ تجربہ کار سوشلسٹ سیاستدان انٹونیو جوز سیگورو، جو پہلے مرحلے میں 31.1 فیصد ووٹ لے کر سب سے آگے تھے، اس راؤنڈ میں فیورٹ سمجھے جا رہے تھے۔ انتخابات سے قبل جاری ہونے والے تازہ ترین جائزوں کے مطابق انہیں قریب 67 فیصد ووٹ ملنے کی توقع تھی۔
دوسری جانب 43 سالہ پارلیمانی رہنما آندرے وینتورا، جو اپنی مہم میں ‘نظام کے خلاف بغاوت’ کا نعرہ لگا رہے ہیں، اسی جائزے کے مطابق 33 فیصد ووٹ حاصل کر سکتے تھے۔ وینتورا نے انتخابی مہم کے دوران شکایت کی تھی کہ انہیں ‘ایک کے خلاف سب’ والے حالات کا سامنا ہے، جو ان کی کوششوں کے لیے رکاوٹ بن رہے ہیں۔
وزیر اعظم کی غیر جانبدارانہ پوزیشن
دائیں بازو کی اقلیتی حکومت کے سربراہ اور وزیر اعظم لوئس مونٹینیگرو، جن کی حکومت پارلیمنٹ میں کبھی سوشلسٹوں اور کبھی دائیں بازو کی دیگر جماعتوں کی حمایت پر انحصار کرتی ہے، نے دوسرے مرحلے کے لیے واضح ووٹ کی ہدایت دینے سے گریز کیا۔ وزیر اعظم نے صرف یہ یقین دہانی کرائی کہ ‘انتخابی عمل کی سلامتی اور اس کے معمول کے مطابق انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔’
ملک کی سیاسی تاریخ کا اہم موڑ
یہ انتخاب پرتگال کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، جہاں دائیں بازو کی جماعت چیگا — جس کے نام کا پرتگالی میں مطلب ‘بس کافی’ ہے — گذشتہ چند برسوں میں تیزی سے ابھر کر ملک کی دوسری بڑی سیاسی قوت بنی ہے۔ صدارتی اسٹیج پر اس کا مضبوط مقابلہ کرنا ہی اس کی مقبولیت کا اظہار ہے۔
نتیجہ نہ صرف اگلے صدر کا فیصلہ کرے گا، بلکہ یہ ملک کی سیاسی فضا، حکومتی پالیسیوں اور آنے والے برسوں میں یورپی تناظر میں پرتگال کے کردار پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ تمام تر توجہ اب ووٹوں کی گنتی اور حتمی اعلان پر مرکوز ہے۔

