امریکی بحریہ کے ایرانی جہاز پر قبضے کے بعد جنگ بندی معاہدے پر سائے
واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا مستقبل منگل کے روز غیر یقینی ہو گیا ہے۔ امریکہ نے شمالی عرب سمندر میں ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ایران نے اس کارروائی کو "مسلح قزاقی” قرار دیتے ہوئے فوری جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
کارروائی اور ابتدائی ردعمل
امریکی فوج کے ترجمان کے مطابق، یہ جہاز ایران کے بندرعباس بندرگاہ کی طرف جا رہا تھا جس پر بحریہ نے گولیاں چلائیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا، "ہمارے پاس جہاز کی مکمل تحویل ہے اور ہم اس پر موجود سامان کا جائزہ لے رہے ہیں۔” اس واقعے کے فوراً بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا اور اسٹاک مارکیٹوں میں ہلچل مچ گئی۔
ایران کا موقف اور مذاکرات سے انکار
ایرانی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ تہران نے نئی امن بات چیت سے انکار کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی، جارحانہ بیانات اور واشنگٹن کی بدلتی ہوئی پوزیشنز مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے ایک پوسٹ میں لکھا، "ایران کے تیل کی برآمدات کو روک کر دوسروں کے لیے آزاد سیکیورٹی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔”
خطے میں کشیدگی اور بین الاقوامی تشویش
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب جنگ آٹھویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، جس نے عالمی توانائی کی سپلائی کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ ایران نے اسرائیل اور امریکی اڈوں والے عرب ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد امریکی-اسرائیلی حملوں اور اسرائیل کی لبنان میں فوجی کارروائیوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
چین کی اپیل
چین نے آبنائے ہرمز میں امریکی کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے کہا، "آبنائے ہرمز کی صورتحال نازک اور پیچیدہ ہے۔” انہوں نے تمام فریقین سے جنگ بندی معاہدے کا احترام کرنے اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچانے کی اپیل کی۔
اسلام آباد میں تیاریاں اور یورپی خدشات
ثالث ملک پاکستان نے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکی وفد کی آمد کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ دو امریکی سی-17 کارگو طیارے اتوار کو سیکیورٹی سازوسامان لے کر ائیر بیس پر اترے۔ سیرینا ہوٹل کے اردگرد، جہاں گزشتہ ہفتے مذاکرات ہوئے تھے، خاردار تاروں کی باڑ لگا دی گئی ہے۔
دریں اثنا، یورپی اتحادیوں کا خدشہ ہے کہ واشنگٹن کی مذاکراتی ٹیم ایک سطحی معاہدے پر زور دے رہی ہے جس کے لیے مزید پیچیدہ تکنیکی مذاکرات درکار ہوں گے۔ جنگ بندی معاہدہ منگل کو ختم ہو رہا ہے اور اس وقت تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

