امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے بعد ایران نے ’ضروری اقدامات‘ کی دھمکی دے دی
ہرمز کے آبنائے میں امریکی کارروائی پر چین کی تشویش
تہران نے امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ کارروائیوں کے بعد ’ضروری اقدامات‘ کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر نئی بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔ ایران کے خارجہ ترجمان، اسماعیل بقائی نے الزام لگایا کہ امریکہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے جہاز پر حملہ کیا۔
چین نے بھی ہرمز کے آبنائے میں ایران کے جہاز پر امریکی قبضے کو ’جبری رکاوٹ‘ قرار دیتے ہوئے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چینی خارجہ ترجمان، گو جیاکون نے کہا کہ یہ معاملہ حساس اور پیچیدہ ہے اور تمام فریقوں کو مزید کشیدگی سے بچنا چاہیے۔
ایران کا امن منصوبہ اور دفاعی موقف
10 نکاتی امن خاکہ
ایرانی ترجمان کے مطابق، اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں تہران کے 10 نکاتی امن منصوبے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے پاکستانی ثالث کو واضح کر دیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔
ایٹمی اور میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتا نہیں
ایرانی ذرائع کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان ایٹمی پروگرام پر اختلافات برقرار ہیں۔ تہران نے واضح کر دیا ہے کہ اس کا دفاعی پروگرام، بشمول میزائل پروگرام، کسی بھی قسم کی بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔
صدر پژوشکیان کا امن کے لیے زور
ایرانی صدر مسعود پژوشکیان نے کہا ہے کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے تمام عقلی اور سفارتی ذرائع استعمال کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران دشمن پر عدم اعتماد کو ضروری سمجھتا ہے۔
لبنان پر اسرائیلی فضائی حملہ
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے علاقے کفرکیلا پر ہوائی حملہ کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایک میزائل لانچر کو نشانہ بنایا تھا جو فائر کرنے کے لیے تیار تھا۔ یہ حملہ لبنان میں 10 روزہ جنگ بندی کے باوجود کیا گیا۔

