ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد تباہ کن جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی
خلیج فارس میں کشیدگی کے بڑھنے کے ساتھ ہی ایران نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اس کے شہری اہداف پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو وہ تباہ کن جوابی کارروائی کرے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ، ایران اور ثالث ممالک خطے میں 45 روزہ جنگ بندی کے لیے کوششیں تیز کیے ہوئے ہیں۔
ہیفہ میں میزائل حملے سے ہلاکتیں 15 ہوگئیں
اسرائیلی ریسکیو خدمات نے تصدیق کی ہے کہ ہیفہ شہر میں ایک رہائشی عمارت پر ایرانی میزائل حملے میں لاپتہ چار افراد کی لاشیں برآمد ہوگئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس حملے میں ہلاکتوں کی کل تعداد 15 ہوگئی ہے۔ حملے میں 11 دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔
امریکی جنگ بندی منصوبہ مسترد
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان، اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کے لیے امریکہ کے 15 نکاتی منصوبے کو "غیر منطقی” اور "حد سے زیادہ مہتواکانکشی” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنے قومی مفادات کی بنیاد پر اپنے مطالبات مرتب کر لیے ہیں۔
بوشہر ایٹمی پلانٹ کے قریب حملوں کی تصدیق
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے بوشہر ایٹمی پلانٹ کے قریب حالیہ فوجی حملے ہوئے ہیں۔ ایجنسی کے مطابق، ان میں سے ایک حملہ پلانٹ کے احاطے سے محض 75 میٹر کے فاصلے پر آیا، تاہم پلانٹ خود کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
کویت میں امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ایرانی فوجی ترجمان، ابراہیم ذوالفقاری نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے کویت کے جزیرہ بوبیان پر تعینات امریکی فوجیوں کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فوجی ارعیجان کیمپ سے یہاں منتقل ہوئے تھے۔ کویت کی وزارت صحت کے مطابق، حملے کے ملبے سے شمالی کویت کے ایک رہائشی علاقے میں چھ افراد زخمی ہوئے۔
ہرمز آبنائے کے نئے ضوابط کا اعلان
ایران کے انقلابی گارڈز نے کہا ہے کہ وہ ہرمز آبنائے میں نئی آپریٹنگ شرائط نافذ کرنے کی تیاریاں مکمل کر رہے ہیں۔ گارڈز نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے کی صورتحال "کبھی بھی اپنی سابقہ حالت پر واپس نہیں آئے گی، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کے لیے”۔
بین الاقوامی ردعمل اور شکوک و شبہات
جاپان نے امریکہ اور ایران کے درمیان مکالمے کو آسان بنانے میں پاکستان کے کردار کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب، پاکستانی وزارت خارجہ نے جنگ بندی کے 45 روزہ منصوبے کی اطلاعات کی تصدیق یا تردید سے انکار کر دیا ہے۔
اسی دوران، ایرانی وزارت خارجہ نے ایک امریکی فضائیہ کے اہلکار کو بچانے کی حالیہ کارروائی کے بارے میں شکوک کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ آپریشن "اضافی یورینیم چرانے” کے لیے ڈھال کا کام ہو سکتا ہے اور اس معاملے پر "بہت سے سوالات اور غیر یقینی صورتحال” موجود ہے۔
