توانائی کے بحران سے نمٹنے کیلئے وفاق اور صوبوں کی جانب سے جامع اقدامات کا اعلان
عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے پیش نظر پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ہنگامی بنیادوں پر جامع اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ریاستی اخراجات میں کمی، عوام پر دباؤ کم کرنا اور ایندھن کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
وفاقی حکومت کے اہم فیصلے
مرکزی حکومت نے سرکاری شعبے میں توانائی کے استعمال میں نمایاں کمی اور عوامی سہولت کیلئے متعدد ہدایات جاری کی ہیں۔ ان میں سرکاری ملازمین میں سے 50 فیصد کا گھر سے کام کرنا (بنیادی خدمات مستثنیٰ)، ہفتے میں چار کام کے دن (بینکس، صنعت اور زراعت مستثنیٰ)، اور سرکاری دعوتوں پر مکمل پابندی شامل ہے۔
سرکاری دفاتر میں ٹرانسپورٹ کے استعمال میں 60 فیصد کمی کی جائے گی جبکہ سرکاری اخراجات (تنخواہوں کے علاوہ) میں 20 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ وفاقی کابینہ اگلے دو ماہ کی تنخواہیں ترک کرے گی جبکہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کمی کی جائے گی۔ گریڈ 20 سے اوپر کے افسران کی دو دن کی تنخواہ کاٹی جائے گی۔
عوامی سطح پر ایک ماہ کیلئے پٹرول پر لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے۔ پاکستان ریلوے نے مسافر اور مال بردار کرایوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں تمام پبلک ٹرانسپورٹ 30 دن تک مفت رہے گی۔
صوبائی سطح پر ردعمل
صوبائی حکومتوں نے بھی اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ریلیف اور بچت کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
پنجاب
صوبے میں اورنج لائن ٹرین، میٹرو بس، اسپیڈو بس اور گرین الیکٹرک بس سمیت تمام پبلک ٹرانسپورٹ مفت کر دی گئی ہے۔ کسانوں کو ڈیزل پر 100 روپے فی ایکڑ سبسڈی دی جائے گی۔ پنجاب اسمبلی کے اراکین کے الاؤنس میں دو ماہ کیلئے 25 فیصد کمی کی گئی ہے۔
سندھ
سندھ حکومت نے ہر رجسٹرڈ موٹر سائیکل سوار کو اپریل کیلئے 2,000 روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ 25 ایکڑ تک زمین رکھنے والے کسانوں کو ایک ماہ کیلئے 1,500 روپے فی ایکڑ ملے گا۔ ٹرانسپورٹرز کو ماہانہ مالی امداد دی جائے گی۔
خیبر پختونخوا
صوبے میں توانائی بچت کیلئے کاروباری اوقات میں کمی کی گئی ہے۔ ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں مارکیٹیں شام 9 بجے تک جبکہ دیگر اضلاع میں شام 8 بجے تک بند رہیں گی۔ ریستوران اور کیفے رات 10 بجے تک بند ہوں گے۔ عمارتوں اور تقریبات پر سجاوٹی لائٹس پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
بلوچستان
بلوچستان میں مارکیٹیں اور شاپنگ سینٹر شام 8 بجے تک بند رہیں گے۔ شادی ہال اور بینکوٹ ہالز میں تقریبات رات 10 بجے تک ختم ہوں گی۔ ہوٹلوں اور ریستوران میں شادی کی تقریبات بھی رات 10 بجے تک مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکمت عملی اور جائزہ
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات عالمی بحران کے اثرات کو کم کرنے، عام شہری کی مدد کرنے اور قومی وسائل کے تحفظ کیلئے ایک جامع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ ان اقدامات کا جائزہ حالات کی تبدیلی کے مطابق لیا جائے گا۔

