اپریل کے بجلی کے بلوں میں فی یونٹ 1.64 روپے اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں اپریل کے بجلی کے بلوں میں فی یونٹ 1.64 روپے تک اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اس سلسلے میں سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی جمع کرائی گئی درخواست پر غور شروع کر دیا ہے۔
ایندھن کی قیمت میں فرق کی وصولی کی درخواست
سی پی پی اے نے نیپرا کے سامنے فروری کے مہینے میں ایندھن کی اصل لاگت اور صارفین سے وصول کیے گئے ریفرنس چارج کے درمیان فرق کی وصولی کی درخواست جمع کرا دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، فروری کے بجلی کے بلوں میں ایندھن کی قیمت فی یونٹ 6.73 روپے مقرر تھی جبکہ اصل لاگت 8.37 روپے فی یونٹ رہی۔ اس طرح ایندھن کی لاگت میں تقریباً 25 فیصد کا فرق ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تمام صارفین پر لاگو ہونے کا امکان
اگر نیپرا اس درخواست کو منظور کر لیتا ہے تو یہ ایندھن قیمتی ایڈجسٹمنٹ چارج نہ صرف ایگزوڈسکو بلکہ کے الیکٹرک کے صارفین کے بلوں پر بھی لاگو ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کراچی سمیت ملک بھر کے تمام بجلی صارفین اپریل کے بلوں میں اس اضافے کا سامنا کر سکتے ہیں۔
فروری میں بجلی کی پیداوار اور اخراجات
اعداد و شمار کے مطابق فروری 2026 میں ملک میں کل 7,696 گیگاواٹ گھنٹے بجلی پیدا ہوئی جس پر 62.75 ارب روپے سے زائد کی لاگت آئی۔ یہ لاگت فی یونٹ تقریباً 8.15 روپے بنتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عالمی ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور دیگر آپریٹنگ اخراجات میں اضافے کی وجہ سے یہ ایڈجسٹمنٹ ناگزیر ہے۔
نیپرا کا فیصلہ جلد متوقع
نیپرا اب اس درخواست کا جائزہ لے رہا ہے اور ممکنہ طور پر اگلے ہفتے تک اس بارے میں اپنا فیصلہ جاری کر دے گا۔ اگر یہ ایڈجسٹمنٹ منظور ہوتی ہے تو یہ اپریل کے بجلی کے بلوں میں ظاہر ہوگا، جس سے گھریلو اور تجارتی صارفین دونوں پر مالی بوجھ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

