ایڈیالہ جیل میں عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ مکمل، میڈیکل بورڈ کی رپورٹ تیار
راولپنڈی: اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے بعد ایڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کا نئی تشکیل شدہ میڈیکل بورڈ نے طبی معائنہ مکمل کر لیا ہے۔ جیل انتظامیہ کے مطابق معائنے کے بعد تیار کردہ رپورٹ اسلام آباد کے چیف کمشنر کو پیش کر دی جائے گی۔
دو گھنٹے طویل معائنہ اور رپورٹ
جیل انتظامیہ کے ایک بیان کے مطابق، میڈیکل بورڈ نے دو گھنٹے تک عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا، جس میں ان کی متاثرہ آنکھ کی مکمل جانچ بھی شامل تھی۔ بورڈ نے اپنی سفارشات پر مشتمل رپورٹ تیار کر لی ہے، جو اب چیف کمشنر کو بھیجی جائے گی۔
نئے میڈیکل بورڈ کی تشکیل
بیان میں بتایا گیا کہ چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے عمران خان کے معائنے کے لیے پانچ رکنی ایک نئے میڈیکل بورڈ کا تقرر کیا گیا تھا۔ بورڈ میں درج ذیل ماہرین شامل تھے:
- ای این ٹی اسپیشلسٹ پروفیسر الطاف حسین
- کارڈیالوجسٹ پروفیسر اختر علی بندیال
- ڈاکٹر محمد علی عارف
- الشفاء آئی ہسپتال کے پروفیسر ندیم قریشی
آنکھ کے سنگین مرض کی تشخیص
سپریم کورٹ میں پیش کردہ ایک طبی رپورٹ کے مطابق، عمران خان کو سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن (سی آر وی او) کی تشخیص ہوئی ہے، جو آنکھ کا ایک سنگین مرض تصور کیا جاتا ہے۔ یہ مرض اس وقت لاحق ہوتا ہے جب ریٹینا سے خون نکالنے والی مرکزی رگ بند ہو جاتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ عام طور پر دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور کولیسٹرول جیسے امراض سے منسلک ہوتا ہے۔
ہائی کورٹ کے احکامات اور آئندہ کارروائی
گزشتہ ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیف کمشنر کو ہدایت کی تھی کہ وہ عمران خان کے طبی معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیں۔ کورٹ نے سابق وزیراعظم کو پرائیویٹ ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے تین صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کیا تھا۔
کورٹ کے حکم کے مطابق، میڈیکل بورڈ اپنی سفارشات چیف کمشنر کو پیش کرے گی، جس کے بعد چیف کمشنر جیل قوانین کے تحت یہ فیصلہ کریں گے کہ عمران خان کو جیل سے باہر علاج کے لیے منتقل کیا جائے یا پھر جیل میں ہی طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہیں۔
گذشتہ طبی دورے اور موجودہ ضرورت
اس سے قبل عمران خان کو دو بار پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لے جایا جا چکا ہے۔ ان کا آخری دورہ 24 فروری کو ہوا تھا، جہاں ان کا فال اپ معائنہ کیا گیا تھا۔ طبی ذرائع کے مطابق، انہیں علاج کے تیسرے انجیکشن کی ضرورت ہے، جو 23 مارچ کو دیا جانا تھا۔
خاندان سے رابطے کی ہدایت
ہائی کورٹ نے اپنے حکم نامے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ عمران خان کے اہل خانہ کو ان کی طبی صورتحال سے آگاہ رکھا جائے اور ڈاکٹر ندیم قریشی ان کے ساتھ رابطے میں رہیں۔ کورٹ نے یہ ہدایت بھی جاری کی تھی کہ عمران خان اپنے وکلاء اور خاندان کے اراکین سے ملاقات جاری رکھیں۔

