خطے میں جنگ کی شدت کے درمیان پاکستان نے امن ثالثی کی پیشکش کردی
اسلام آباد: وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان وسط مشرق میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان تصادم شدت اختیار کر گیا ہے۔
پاکستان کا خطے میں توازن برقرار رکھنے کا عزم
الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر اطلاعات نے زور دے کر کہا کہ پاکستان خطے میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور اس کا وسط مشرق میں سفارتی استحکام کے لیے گہرا عزم ہے۔ انہوں نے ایران میں صورت حال کو بہتر بنانے اور مزید عدم استحکام کو روکنے میں حصہ لینے کی خواہش کا اظہار کیا۔
عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا، "پاکستان مختلف شراکت داروں سے بات چیت میں شامل ہے، اور ہمیشہ چاہا ہے کہ تعلقات میں یہ توازن برقرار رہے۔ میرے خیال میں ہم خطے کے ممالک کے ساتھ ثالثی کا کردار ادا کرنے کے قابل ہیں۔”
ایرانی جوابی حملے اور خلیجی ممالک پر اثرات
ایران نے اسرائیل کے سلامتی چیف علی لاریجانی اور بسیج کمانڈر غلامرضا سلیمانی کے قتل کے جواب میں ٹیل اویو پر کلسٹر وار ہیڈز سے لیس میزائلوں سے حملہ کیا۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے مطابق لاریجانی کے بیٹے اور ان کے ڈپٹی علیرضا بیات بھی پیر کی رات ہونے والے اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے۔
اس کے بعد ایران نے اپنے خلیجی ہمسایہ ممالک پر وسیع پیمانے پر حملے کیے ہیں۔ خلیجی عرب ریاستوں نے امریکی سفارتی مشنوں، فوجی اڈوں، تیل کے بنیادی ڈھانچے، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، جہازوں اور رہائشی و تجارتی عمارتوں پر دو ہزار سے زائد میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات سب سے زیادہ نشانہ بننے والا ملک ہے۔
علاقائی کوششیں اور ایران کا موقف
سعودی عرب نے بدھ کی شام ریاض میں کئی عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی مشاورتی میٹنگ کی میزبانی کی تاکہ خطے میں سلامتی اور استحکام کو سپورٹ کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
دوسری جانب ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران کے وزارت خارجہ کو امریکہ کے ساتھ "کشیدگی کم کرنے یا جنگ بندی” کے لیے بھیجے گئے تجاویز مسترد کر دی ہیں۔ اپنی تقرری کے بعد پہلی غیر ملکی پالیسی میٹنگ میں شرکت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "امریکہ اور اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہونے، شکست قبول کرنے اور معاوضہ ادا کرنے تک امن کا وقت نہیں آیا۔”
جنگ کے اثرات اور ہلاکتیں
اسرائیل میں جنگ سے اب تک کم از کم 14 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایران میں سپریم لیڈر سمیت متعدد اعلیٰ عہدیدار دو ہفتے قبل شروع ہونے والے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ خلیجی بحران کے باعث پاکستان ڈے پریڈ بھی معطل کر دی گئی ہے۔
خطے میں جاری جنگ نے نہ صرف علاقائی استحکام کو متاثر کیا ہے بلکہ بین الاقوامی سفارت کاری کے لیے نئے چیلنجز بھی پیدا کر دیے ہیں، جس کے درمیان پاکستان نے امن ثالثی کی پیشکش کی ہے۔

