سندھ: کینسر کے مریضوں کو مکمل علاج کے لیے مختلف اسپتالوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں
صوبہ سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں کینسر کا مکمل علاج ایک ہی جگہ دستیاب نہیں ہے، جس کے باعث مریضوں کو سرجری، کیموتھراپی اور ریڈیوتھراپی جیسے مراحل کے لیے مختلف اداروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، علاج کا یہ بکھرا ہوا نظام تاخیر اور اخراجات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے جبکہ لاعلاج مریضوں کے لیے تسکینی دیکھ بھال (پیلئیٹو کیئر) کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
بکھرے ہوئے نظام سے علاج میں تاخیر
صحت کے حکام اور ماہرینِ اونکولوجی کا کہنا ہے کہ مریضوں کو بار بار ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال ریفر کیا جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف علاج میں تاخیر ہوتی ہے بلکہ متاثرہ خاندانوں پر مالی اور جذباتی بوجھ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہر سال 180,000 سے زائد نئے کینسر کے مریض سامنے آتے ہیں، جن میں سندھ کی آبادی کا نمایاں حصہ شامل ہوتا ہے۔
کراچی میں بھی جامع سہولت کا فقدان
صوبے کے صحت کے مرکز کراچی میں بھی کوئی ایسا سرکاری اسپتال موجود نہیں جو سرجری، کیموتھراپی، ریڈیوتھراپی اور پیلئیٹو کیئر سروسز ایک ہی چھت کے نیچے فراہم کر سکے۔ نتیجتاً، مریض علاج کا آغاز ایک ادارے میں کرتے ہیں لیکن دیگر مراحل کے لیے انہیں دوسری جگہ بھیج دیا جاتا ہے۔
ایک مریض کی المناک داستان
حیدرآباد کے 55 سالہ پیٹ کے کینسر کے ایک مریض کی کہانی اس صورتحال کی عکاس ہے۔ سندھ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ایک سینئر ریٹائرڈ اہلکار کے مطابق، تشخیص کے بعد مریض کو پہلے کراچی کے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی)، پھر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) اور اس کے بعد کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ریڈیو تھراپی اینڈ نیوکلیئر میڈیسن (کیران) بھیجا گیا۔ کیران سے انہیں دوبارہ جے پی ایم سی ریفر کر دیا گیا جبکہ یہاں کے ڈاکٹروں نے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال سے پیلئیٹو کیئر حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔
اہلکار کے بقول، "کئی دن تک اسپتالوں کے درمیان بھٹکنے کے بعد مریض حیدرآباد واپس آ گیا اور اب گھر پر موت کا انتظار کر رہا ہے۔ کینسر شدید درد اور تکلیف کا باعث بنتا ہے، لیکن پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں کوئی بھی اس کی علامات میں کمی نہیں لا سکا۔”
تسکینی دیکھ بھال اور درد کش ادویات کا بحران
سرکاری اسپتالوں میں پیلئیٹو کیئر سروسز کے فقدان کا مطلب یہ ہے کہ ایڈوانسڈ اسٹیج کے کینسر کے مریض شدید درد میں اپنے آخری ایام گزارتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ شدید درد کے معیاری علاج مورفین جیسی ادویات سرکاری اسپتالوں میں شاذ و نادر ہی دستیاب ہوتی ہیں۔ سخت ضابطوں اور محدود سپلائی کی وجہ سے بہت سے اسپتال ان ادویات کا اسٹاک نہیں رکھتے۔
محکمہ صحت کا موقف
سندھ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے اندر موجود اہلکار تسلیم کرتے ہیں کہ کینسر کے علاج کی خدمات کراچی میں کئی اداروں میں بکھری ہوئی ہیں۔ جے پی ایم سی میں مریض کینسر کی سرجری کروا سکتے ہیں جبکہ کیموتھراپی پاکستان بیت المال جیسے پروگراموں کے ذریعے ترتیب دی جاتی ہے۔ ہسپتال کے اہلکاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جے پی ایم سی میں ریڈیوتھراپی کی سہولت موجود ہے لیکن ساختی پیلئیٹو کیئر سروسز کا فقدان ہے۔
کینسر کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے باوجود، سندھ نے اب تک ایک جامع سرکاری کینسر ہسپتال قائم نہیں کیا ہے۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو سے ان کا مؤقف حاصل کرنے کی کوششیں ناکام رہیں۔ تاہم، انہوں نے ماضی میں کہا ہے کہ سندھ میں ملک کی بہترین صحت کی سہولیات میں سے کچھ موجود ہیں۔
ماہرینِ صحت خبردار کرتے ہیں کہ مربوط کینسر علاج کے مراکز اور مناسب پیلئیٹو کیئر سروسز کے بغیر، صوبے کے ہزاروں مریضوں کو علاج اور درد سے نجات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا رہے گا۔

