ایران نے امریکی اڈوں پر ڈرونز اور میزائلوں کی بڑے پیمانے پر بوچھاڑ کردی
وسطی اور مغربی ایشیا میں کشیدگی ایک نئے اور خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں ایران نے عرب ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملے کا اعلان کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے 2,000 ڈرونز اور 500 میزائل داغے ہیں۔
امریکہ کا 5,000 ہدف تباہ کرنے کا دعویٰ
امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف دس روزہ کارروائی کے دوران اس نے 5,000 سے زیادہ ہدف تباہ کیے ہیں۔ یہ دعویٰ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز (آئی آر جی سی) کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اس نے عراق کے کردستان علاقے میں واقع ہرار ایئر بیس پر میزائل حملہ کیا ہے۔
بات چیت کی شرائط اور اسرائیلی دھمکی
ایرانی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ کسی بھی ثالثی اور بات چیت کے لیے شرط یہ ہے کہ نہ صرف جنگ بندی ہو بلکہ حملوں کا مکمل سلسلہ رکے اور اس بات کی ضمانت ہو کہ مستقبل میں ایسا نہیں ہوگا۔
دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کا کہنا تھا، "ہم ابھی تک کام مکمل نہیں کر چکے ہیں۔”
انسانی نقصان اور جوابی کارروائی
اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 191 افراد ہسپتال میں داخل ہوئے ہیں۔ ایران نے اسرائیل کے حیفہ شہر میں واقع ایک بڑی تیل کی پلانٹ پر بھی ڈرون حملہ کیا ہے، جسے اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں کا جواب قرار دیا جا رہا ہے۔
ہرمز آبنائے بند ہونے کے خدشات
سعودی آرامکو کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی جنگ کے باعث ہرمز آبنائے میں جہاز رانی بحال نہ ہوئی تو عالمی تیل کے بازاروں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بحران ہوا بازی، زراعت اور آٹوموٹو سمیت دیگر صنعتوں کو بھی متاثر کرے گا۔
بین الاقوامی ردعمل اور سفارتی کوششیں
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو میں ایران جنگ کو جلد ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ ٹرمپ نے ایران میں سپریم لیڈر کے عہدے پر مجتبیٰ خامنہ ای کے نامزد ہونے پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
ترکی نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے باعث میزائل کے خطرے کے پیش نظر نیٹو کی مدد سے ملک کے جنوب مشرقی صوبے مالاٹیا میں امریکی پیٹریٹ ایئر ڈیفنس سسٹم تعینات کیا گیا ہے۔
چین کے خارجہ محکمے کے مطابق متحدہ عرب امارات، عمان اور سعودی عرب سمیت مشرق وسطیٰ کے ممالک سے 10,000 سے زائد چینی شہریوں کو محفوظ طریقے سے واپس لایا جا چکا ہے۔
ایران نے یورپی یونین پر منیاب میں اسکول پر حملے پر خاموشی اختیار کرنے پر منافقت کا الزام عائد کیا ہے۔ صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور عالمی رہنما جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔

