ایران پر حملوں میں ہلاکتیں 1,255 تک پہنچیں، تہران جنگ بندی سے انکار کرتا ہے
امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران میں ہلاکتوں کی تعداد 1,255 تک جا پہنچی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 12,000 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ایرانی حکام نے واضح کر دیا ہے کہ وہ جنگ بندی نہیں چاہتے بلکہ "جارحوں” کو سزا دینے پر زور دے رہے ہیں۔
انسانی بحران گہرا، ہلاک شدگان میں خواتین اور بچے شامل
ایران کے نائب وزیر صحت علی جعفریان کے مطابق گذشتہ نو دنوں میں ہونے والے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی عمر آٹھ ماہ سے لے کر 88 سال کے درمیان ہے۔ ان میں 200 خواتین شامل ہیں۔ میناب اسکول پر حملے میں 168 بچے جاں بحق ہوئے۔ صحت کے شعبے سے وابستہ 55 کارکن زخمی ہوئے جن میں سے 11 ہلاک ہو چکے ہیں—ان میں چار فزیشن، دو نرسیں اور تین ایمرجنسی ورکرز شامل ہیں۔
بیرون ملک مقیم ایرانی شہریوں کے خلاف سخت اقدام
ایرانی عدلیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ بیرون ملک مقیم ایسے ایرانی شہریوں کی جائیدادیں ضبط کرے گی جو اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ "تعاون” کرتے پائے جائیں۔ عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن کے مطابق، "بیرون ملک مقیم ایرانی جو امریکی-صہیونی جارح دشمن کے ساتھ صف بندی، ہمنوائی اور تعاون کریں گے، ان کی تمام جائیدادوں کی ضبطی اور دیگر قانونی سزاؤں کا سامنا ہوگا۔” یہ قانون جون میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد نافذ کیا گیا تھا۔
علاقائی ردعمل اور سفارتی تحریکات
جی سیون ممالک کا تیل کے ذخائر پر غور
جی سیون ممالک کے مالیاتی وزرا کی میٹنگ میں تیل کے ہنگامی ذخائر کی مشترکہ رہائی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ایک فرانسیسی سرکاری ذریعے نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔
ترکی کی قبرص میں فوجی تیاری
ترکی کے شمالی قبرص میں چھ ایف-16 لڑاکا جہاز تعینات کرنے کے منصوبے ہیں تاکہ وہاں کی ترک برادری کے دفاع کو مضبوط بنایا جا سکے۔ ترکی کی دفاعی وزارت کے ایک ذریعے نے بتایا کہ خطے میں پھیلتے تنازعے کے پیش نظر ترکی قبرص میں ایف-16 طیاروں کی تعیناتی سمیت دیگر اقدامات پر غور کر رہا ہے۔
سرحدی راستے کھلے، معاشی اثرات
آذربائیجان نے ایران کے ساتھ سرحدی کراسنگز تمام کارگو ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دی ہیں۔ یہ سرحدی گذرگاہیں ایران کو اس کے اتحادی روس سے ملانے والے مختصر ترین زمینی راستوں میں سے ایک ہیں۔ گذشتہ ہفتے ناخچیوان میں ایرانی ڈرون حملے کے بعد انہیں بند کر دیا گیا تھا۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے اپنے آذربائیجانی ہم منصب الہام علیئف سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کا ناخچیوان واقعے میں کوئی عمل دخل نہیں تھا اور تہران تحقیقات کر رہا ہے۔
بحرین کی کمپنی باپکو انرجیز نے اپنے ریفائنری کمپلیکس پر حالیہ حملے کے بعد اپنے گروپ آپریشنز پر فورس میجور کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ تمام مقامی مارکیٹ کی ضروریات مکمل طور پر محفوظ ہیں اور سپلائی میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔
ایران کے اندرونی بیانات اور امریکی ہلاکت
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری کو ایران کے لیے "نئے دور” کا آغاز قرار دیا ہے۔ دوسری طرف، تہران کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ وہ جنگ بندی نہیں چاہتا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ "جارحوں” کو سزا ملنی چاہیے۔
اس تنازعے میں امریکہ کا ساتواں فوجی کارکن ایران کے ابتدائی جوابی حملے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا ہے۔

