وسطی مشرق کی کشیدگی کے درمیان پاکستان میں آج تین پیٹرول جہازوں کی آمد متوقع
کراچی: وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ وسطی مشرق میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان پیر تک پاکستان میں تین پیٹرول کے جہاز پہنچنے کی توقع ہے۔ انہوں نے ایندھن کی فراہمی پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے یہ بیان کراچی میں صوبائی وزیراعلیٰ ہاؤس پر منعقدہ ایک اجلاس کے دوران دیا۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے سے معیشت پر دباؤ کا خدشہ
اجلاس میں عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے اور ملک کے ایندھن کے ذخائر کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے خبردار کیا کہ اگر وسطی مشرق میں تنازعہ مزید بڑھا تو خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، جس سے پاکستان کی معیشت پر اضافی دباؤ پڑے گا۔
ماہانہ درآمدی بل میں 60 کروڑ ڈالر تک اضافے کا امکان
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس کو بتایا کہ اگر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تو پاکستان کے ماہانہ تیل کے درآمدی بل میں 60 کروڑ ڈالر تک اضافہ ہو سکتا ہے، جو ملک کے بیرونی اکاؤنٹ پر دباؤ ڈالے گا۔
ہنگامی اقدامات اور متبادل راستوں پر غور
شرکاء نے ایندھن کے استعمال کو منظم کرنے اور معاشی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی توانائی بچت کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے توانائی کے ذمہ دارانہ استعمال اور عوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
شرکاء کو یہ بھی بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے ہرمز کے آبنائے سے باہر متبادل ایندھن کی فراہمی کے راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے سعودی عرب، عمان اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی مشغولیت کو تیز کر دیا ہے۔
ایل این جی کی فراہمی اور آئی ایم ایف سے ریلیف کی کوشش
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ قطر نے فورس میجور کا اعلان جاری کیا ہے جو ایل این جی کی فراہمی کو متاثر کر سکتا ہے۔ دوسری جانب، وفاقی وزراء کی قیادت میں وفد نے یہ بھی بتایا کہ حکومت صارفین پر مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ آنے والی بات چیت کے دوران پیٹرولیم لیوی میں ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔
ہموار تقسیم اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کا فیصلہ
اجلاس میں ملک بھر میں ہموار ایندھن کی تقسیم کو یقینی بنانے اور ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکام کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

