خلیجی بحران: ہرمز آبنائے بند ہونے سے تیل کی قیمتوں میں 25 فیصد تاریخ ساز چھلانگ
بین الاقوامی منڈیوں میں پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا جس کی وجہ ایران کے ساتھ جاری تنازعہ اور ہرمز آبنائے کی بندش بتائی جارہی ہے۔ برینٹ کرڈ کا فی بیرل ریٹ 117 ڈالرز جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 116 ڈالرز سے تجاوز کر گیا، جو جولائی 2022 کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔
ہرمز آبنائے کی بندش سے عالمی توانائی مارکیٹ میں ہلچل
ہرمز آبنائے، جہاں سے دنیا کا پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے، کے بند ہونے سے عالمی توانائی کی مارکیٹوں میں شدید بے چینی پائی جارہی ہے۔ ایشیائی خریداروں کو خاص طور پر مشکلات کا سامنا ہے جو مشرق وسطیٰ کے خام تیل پر انحصار کرتے ہیں۔
علاقائی پیداوار پر اثرات
عراق اور کویت کی صورت حال
عراقی تیل کی پیداوار میں 70 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جو اب محض 1.3 ملین بیرلز روزانہ رہ گئی ہے۔ کویت نے فورس میژر کا اعلان کرتے ہوئے اپنی پیداوار میں کمی شروع کردی ہے۔ اس سے قبل قطر نے مائع قدرتی گیس کی ترسیل میں کمی کردی تھی۔
ایران میں قیادتی تبدیلی اور جنگ کا تسلسل
ایران میں علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے مجتبی خامنہ ای کو نئے سپریم لیڈر کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس تبدیلی سے خطے میں امریکی مفادات کے حصول میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔
راکوٹن سیکیورٹیز کے تجزیہ کار ساتورو یوشیدا کا کہنا تھا کہ "ایران ہرمز آبنائے کی بندش اور خطے کے تیل کے مراکز پر حملے جاری رکھے گا، جس سے قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔”
عالمی معیشت پر دیرپا اثرات کا خدشہ
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جنگ کے ختم ہونے کے بعد بھی تیل کی سپلائی بحال ہونے میں ہفتوں یا مہینوں کا وقت لگ سکتا ہے۔ ڈینیئل ہینز، اے این زیڈ کے سینئر کموڈٹی اسٹریٹجسٹ کے مطابق "اگر تیل کے کنوئیں بند ہونے لگیں تو نہ صرف پیداوار متاثر ہوگی بلکہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی بحالی میں تاخیر ہوگی۔”
تیل کے مراکز پر حملے جاری
ایران کی جانب سے خطے کے تیل کے مراکز پر حملے جاری ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے فجیرہ آئل زون میں آگ لگنے کی اطلاعات ہیں جبکہ سعودی عرب نے شایبہ آئل فیلڈ کی طرف بڑھنے والے ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی ردعمل اور اسٹریٹجک ریزرو
تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد امریکی سینیٹ ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو سے تیل جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ شومر کا کہنا تھا کہ "صدر ٹرمپ کو مارکیٹس کو مستحکم کرنے اور امریکی خاندانوں کو ریلیف دینے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔”
ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو بھی جلد ہی تیل کی ذخیرہ گنجائش ختم ہونے پر پیداوار میں کمی کرنی پڑے گی، جس سے عالمی تیل کی مارکیٹ میں مزید عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔

