کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے چھوٹے قصبے ٹمبر رج میں ایک ہائی اسکول میں ہوئی فائرنگ کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 27 زخمی ہو گئے ہیں۔ رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس نے اس واقعے کو ایک ’خوفناک منظر‘ قرار دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ حملہ آور بھی ہلاک ہو چکا ہے۔
پولیس کی تفصیلات: 9 شہری اور حملہ آور ہلاک
پولیس کے مطابق فائرنگ کا نشانہ بننے والے 9 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آور ایک خاتون تھی جس نے ’خود کو پہنچائی گئی چوٹ‘ کے نتیجے میں جان گنوائی۔ اس طرح کل ہلاکتوں کی تعداد 10 ہو گئی۔
- کل ہلاکتیں: 10 (9 شہری + 1 حملہ آور)
- زخمی: 27 افراد (جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے)
- واقعے کے مقامات: ٹمبر رج سیکنڈری اسکول اور ایک قریبی رہائشی علاقہ
اسکول میں دو گھنٹے تک یرغمالی کیفیت
ایک طالب علم ڈیرین کوئسٹ کے مطابق جب اسکول کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا تو وہ میکینکس کی کلاس میں موجود تھا۔ ابتدائی طور پر صورتحال کی سنگینی کا اندازہ نہیں ہو سکا، یہاں تک کہ اسکول کے اندر کے المناک مناظر کی تصاویر سامنے آنے لگیں۔ طلباء اور عملے کو تقریباً دو گھنٹے تک کمروں میں بند رہنے کے بعد پولیس نے محفوظ طریقے سے باہر نکالا۔
قصبے پر لاک ڈاؤن، وزیر اعظم کا دورہ منسوخ
واقعے کے بعد پورے ٹمبر رج قصبے میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی، جسے بعد میں ختم کرتے ہوئے پولیس نے عوام کے لیے خطرہ ختم ہونے کا اعلان کیا۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے اس ’خوفناک فائرنگ‘ پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے یورپ کے اپنے دورے کو منسوخ کر دیا۔ انہوں نے کہا، ’’میں ان تمام کینیڈین شہریوں کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں جن کی زندگیاں آج ہمیشہ کے لیے بدل گئی ہیں۔‘‘
ایک سال میں برٹش کولمبیا میں دوسرا بڑا واقعہ
اگرچہ کینیڈا میں اس طرح کے واقعات امریکہ کے مقابلے میں کم ہیں، یہ برٹش کولمبیا میں ایک سال کے اندر دوسری بڑی فائرنگ ہے۔ گزشتہ سال اپریل میں وینکوور میں ایک ثقافتی میلے کے دوران 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ کینیڈا میں اسکولوں پر ایسے حملے غیر معمولی سمجھے جاتے ہیں، جس نے اس واقعے کے صدمے کو اور گہرا کر دیا ہے۔
آبادی 2,300 کے قصبے پر گہرا صدمہ
ٹمبر رج کی میونسپلٹی نے کہا ہے کہ ’’کوئی لفظ اس درد کا اظہار نہیں کر سکتا جو ہماری برادری آج محسوس کر رہی ہے۔‘‘ راکی پہاڑوں کے دامن میں واقع یہ پرامن سیاحتی قصبہ، جس کی آبادی صرف 2,300 ہے، اچانک المیے کے مرکز میں تبدیل ہو گیا۔ پولیس افسر کین فلوائڈ نے بتایا کہ اسکول پہنچنے پر انہیں جو منظر دیکھنے کو ملا وہ ’دل دہلا دینے والا‘ تھا۔ اس سانحے کی تحقیقات جاری ہیں۔
