ورلڈ بینک کا انتباہ: پاکستان کو اگلے دس سال میں 3 کروڑ نئے روزگار پیدا کرنے کی ضرورت
ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو اگلے دس سال کے دوران 25 سے 30 ملین، یعنی تقریباً 3 کروڑ، نئے روزگار پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ بینک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ روزگار کی تخلیق کو ملکی پالیسی کا مرکزی نکتہ بنانا ہوگا۔
ایک ٹوٹا ہوا معاشی ماڈل اور فنڈنگ کا منصوبہ
ورلڈ بینک نے اس چیلنج کے پیش نظر پاکستان کے ساتھ سالانہ تقریباً 4 ارب ڈالر کی شراکت داری کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ تاہم، بینک خود تسلیم کرتا ہے کہ پاکستان کی ترقی کا موجودہ ماڈل ٹوٹ چکا ہے۔ موجودہ میکرو اکنامک پالیسیوں کا بنیادی مقصد معیشت کو سنوارنا نہیں بلکہ محض سرکاری بیلنس شیٹ درست کرنا ہے۔
ساختاتی مسائل: غیر مسابقتی معیشت
ورلڈ بینک کی تشخیص کے مطابق پاکستان کی معیشت کئی ساختاتی مسائل کا شکار ہے:
- برآمدات آبادی کے تناسب سے انتہائی کم ہیں۔
- توانائی کے اخراجات زیادہ اور غیر مستحکم ہیں۔
- ٹیکس کا نظام پیچیدہ اور غیر موثر ہے۔
- پرائیویٹ سرمایہ کاری مسلسل کم سطح پر ہے۔
- کاروباری اداروں کے قیام اور توسیع کے مواقع محدود ہیں۔
بینک کے مطابق یہ کوئی عارضی سست روی نہیں بلکہ ایک ساختاتی ناکامی ہے۔
حکمرانی کی ناکامی اور وسائل کا ضیاع
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ محض فنڈز کی کمی کا نہیں، بلکہ دستیاب وسائل کے ناقص استعمال کا ہے۔ منصوبے اکثر منتشر اور سیاسی بنیادوں پر مختص ہوتے ہیں جبکہ احتساب کا نظام ناپید ہے۔ نتیجتاً، سرمایہ کاری موجودہ اثاثوں کی پیداواریت، برآمدات یا روزگار میں واضح اضافہ نہیں کر پاتی۔
پالیسی میں تضاد: استحکام بمقابلہ ترقی
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پالیسی میں ایک واضح تضاد پایا جاتا ہے۔ ایک طرف ورلڈ بینک روزگار پیدا کرنے والی، پرائیویٹ سیکٹر کی قیادت میں ترقی کی بات کرتا ہے، تو دوسری طرف آئی ایم ایف کے پروگراموں کے تحت میکرو اکنامک فریم ورک کا مرکز محض مالیاتی توازن برقرار رکھنا ہے۔ اس کے نتیجے میں:
- خسارے کو کم کرنے کے لیے معیشت کو سکیڑا جاتا ہے، مسابقت کو بہتر نہیں بنایا جاتا۔
- آمدنی کے ہدف ریگریسیو ٹیکس اور پٹرولیم لیویز سے پورے کیے جاتے ہیں۔
- بیرونی ایڈجسٹمنٹ درآمدات کی کمی سے ہوتی ہے، برآمدات میں اضافے سے نہیں۔
سیاسی معیشت اور قائمہ نظام کے مفادات
تجزیے کے مطابق، پاکستان کی پالیسی ماحول موجودہ طاقتور اداروں اور مفاداتی گروہوں کو فائدہ پہنچاتی ہے جو ٹیرف، سبسڈیز اور رگولیٹری رکاوٹوں کے پیچھے محفوظ ہیں۔ اس کا نتیجہ ایک دو سطحی معیشت کی صورت میں نکلتا ہے جہاں غیر موثر ادارے محفوظ مقامی مارکیٹ میں کام کرتے ہیں جبکہ برآمد کنندگان جدوجہد کرتے ہیں۔
آگے کا راستہ: مشکل انتخاب
ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ پاکستان کے سامنے اب دو راستے ہیں۔ پہلا راستہ یہ ہے کہ موجودہ صورت حال کو محض اکاؤنٹنگ کے ہیر پھیر سے چلایا جائے، جو بحران کو دائمی بنادے گا۔ دوسرا، مشکل راستہ یہ ہے کہ سیاسی معاشی ڈھانچے کو ازسرنو ڈیزائن کیا جائے تاکہ پیداواریت، مسابقت اور کاروباری سرگرمیوں کو انعام ملے۔
ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا کا کہنا ہے کہ بینک "امید کے کاروبار” میں ہے، لیکن ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ محض امید سے 3 کروڑ روزگار نہیں بنیں گے۔ تشخیص اور پالیسی کے درمیان خلیج کو پاٹے بغیر، پاکستان کے سامنے چیلنج برقرار رہیں گے۔

